تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 112
تاریخ احمدیت۔جلد 27 112 سال 1971ء صوبائی اور مرکزی حکومت اور ہندوستان کی بڑی بڑی جماعتوں کو بذریعہ تار اطلاع دیتے ہوئے اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔اگلے روز مورخہ ۷۱ - ۱۲-۶ کو ہمارا ایک وفد جو مکرم چوہدری سعید احمد صاحب، مکرم چوہدری منظور احمد صاحب چیمہ مرحوم اور خاکسار پر مشتمل تھا بٹالہ کے ڈی۔ایس۔پی صاحب سے ملنے گیا۔مسٹر شر ماڈی۔ایس۔پی بٹالہ کا رویہ کافی سخت تھا انہوں نے ہمیں خبر دار کیا کہ ہمیں نقل مکانی کے لئے چند گھنٹوں کے اندر تیار ہو جانا چاہیے۔حکومت کی پالیسی کے مطابق عمل کرنے میں دنوں کا سوال نہیں ہے۔ہم نے اپنے موقف کی وضاحت کی اور ان کو بتایا کہ ہم اوپر کے افسران کو مل لیتے ہیں۔اسی روز ہم بٹالہ کے ایس۔ڈی۔ایم صاحب شری مگر صاحب سے بھی ملے تھے۔وہ ایک شریف الطبع افسر تھے اور جماعت کے ساتھ ہمدردانہ رویہ رکھتے تھے۔اس خطرناک صورتحال کی اطلاع پر درویشان میں ایک گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی اور دعاؤں اور خدا تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔مورخہ ۷۱-۱۲-۷ کو ہمارا ایک وفد جو مکرم چوہدری سعید احمد صاحب، مکرم چوہدری عبد القدیر صاحب، مکرم منظور احمد صاحب چیمہ مرحوم اور خاکسار پر مشتمل تھا اور ہمارے ساتھ سردار ستنام سنگھ صاحب باجوہ بھی تھے گورداسپور جا کر ڈی سی اور ایس۔پی صاحب سے ملا وہاں ایک میٹنگ میں پنڈت موہن لال صاحب بھی موجود تھے۔سپرنٹنڈنٹ پولیس نے بہت تحکم کے انداز میں ہمیں مخاطب ہو کر کہا کہ We are already late in implementing the scheme of"۔"the government یعنی حکومت کی اسکیم کو ہمارے متعلق نافذ کرنے میں ہم پہلے ہی لیٹ ہو چکے ہیں۔انہوں نے اگلے روز از خود قادیان آنے کو کہا چنانچہ اگلے روز مورخہ ۷۱-۱۲-۸ کو گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر صاحب، ایس۔پی صاحب اور ڈی۔ایس۔پی صاحب اپنے ہمراہ پولیس کی ایک پوری گارڈ لے کر ہمارے ایریا میں تشریف لائے۔ان کے ہمراہ سردار ستنام سنگھ صاحب باجوہ، اجیت سنگھ صاحب چیمہ ایڈووکیٹ اور جن سنگھ کے مقامی صدر شری رام پرکاش پر بھا کر بھی تھے۔انہوں نے مسجد اقصیٰ اور اس کے نیچے اسٹور روم دیکھے۔مسجد مبارک ، مقبرہ بہشتی تعلیم الاسلام اسکول وغیرہ دیکھے۔انکی باتوں سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہم سب کو احمد یہ ایریا سے نکالنے پر تلے ہوئے ہیں اور پولیس کی فورس جوان کے ساتھ لڑکوں وغیرہ پر ہے وہ ہم کو لے جانے کا پروگرام بنا کر آئی ہے۔ہم اپنی طرف سے یہ جماعتی فیصلہ کر چکے تھے کوئی ایک آدمی بھی اپنی مرضی سے احمد یہ ایریا