تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 2
تاریخ احمدیت۔جلد 27 2 سال 1971ء مارتا ہوا سمندر بن جائے تو حسد اور مخالفت اور عناد میں بھی شدت پیدا ہو جاتی ہے لیکن مظلوم ہونے کے باوجود اور حسد کا نشانہ بنے اور ظلم کا ہدف ہونے کے باوجود ہم پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے اور ہمیں یہ کم دیا گیاہے کہ کس کو کھنہیں پہنچانا کسی کی جان پر حملہ نہیں کرنا کسی کا مال غصب نہیں کرنا کسی کو بے عزت نہیں کرنا اور کسی پر حقارت کی نگاہ نہیں ڈالنا بلکہ جب انسان اللہ کی گود میں اس کے فضل سے بیٹھ جائے تو اس کے دست قدرت نے جو پیدا کیا اس سے وہ محبت کرنے لگتا ہے، اس سے پیار کرنے لگتا ہے ، اس کا بہی خواہ بن جاتا ہے اور اس سے ہمدردی و غمخواری کرتا ہے۔دنیا اپنی نا سمجھی کی وجہ سے ہمارے ساتھ جو بھی سلوک کرے ہمیں غصہ نہیں آنا چاہیے۔ہمیں بدلہ لینے کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے بلکہ ایسوں کے لئے بھی دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں تاکیدی حکم فرمایا ہے کہ ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ ہر اس شخص کے لئے دعائیں کرتار ہے جو اس احمدی کیلئے دشمنی کے جذبات رکھتا ہے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو حقیقی مسلمان کی ایک صفت سے محروم ہوجا تا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ایک دروازہ اپنے پر کھول لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ رحم کرے اور محبت اور اخوت اور ہمدردی و غم خواری کے جس مقام پر اللہ تعالیٰ نے جماعت کو بٹھایا ہے ، اس مقام پر ہی وہ ہمیں قائم رکھے اور اسی پر استقامت بخشے تا کہ اس کے فضلوں کے ہم زیادہ سے زیادہ وارث بنتے چلے جائیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔وراثتی نظام سے متعلق ایک بیش قیمت علمی تحقیق قرآن مجید نے غرباء کو بڑے بڑے سرمایہ داروں کی یلغار سے بچانے اور دنیا میں ان کی ترقی و خوشحالی کا راستہ کھلا رکھنے کے لئے جو ذرائع مقرر کئے ہیں ان میں اس کے جامع نظام وراثت کو منفرد مقام حاصل ہے جس کی خوبی اور عظمت کو ڈاکٹر گستاولی بان (Gustave Le Bon) جیسے فرانسیسی محقق نے بھی تسلیم کیا ہے اور نہایت منصفانہ قرار دے کر اسے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔لیکن اس شاندار نظام سے واقفیت اور استفادہ کی راہ میں دو مشکلات حائل ہیں اول یہ کہ قرآن مجید عربی زبان میں ہے جس سے برصغیر پاک و ہند کے عوام نا آشنا ہیں۔دوم ورثا کے حصوں کی تقسیم کا