تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 3 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 3

تاریخ احمدیت۔جلد 27 3 سال 1971ء پرانا طریق حساب نہایت مشکل اور پیچیدہ نوعیت کا ہے۔عرصہ سے یہ ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی کہ اسے بیسویں صدی کے ذہن و مزاج اور جدید علمی تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے عام فہم انداز میں متعارف کرایا جائے۔اس نقطہ نگاہ سے ایک احمدی محقق و فاضل عبدالرشید غنی ایم ایس سی لیکچر ارتعلیم الاسلام کالج ربوہ نے محنت شاقہ کر کے قدیم وجدید لٹریچر کا مطالعہ کیا اور اپنی بیش قیمت علمی تحقیق اس سال اسلام کا وراثتی نظام کے نام سے شائع کر دی جو علمی اور قانونی حلقوں میں مقبول ہوئی اور بلند پایہ شخصیات نے اس پر اظہار خوشنودی کیا اور درج ذیل احباب نے مفصل تبصرے کئے۔ا۔مکرم ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ۔۲۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ناظم ارشاد۔۳۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب۔۴۔سجاد احمد جان جسٹس سپریم کورٹ۔۵- شیخ بشیر احمد صاحب ریٹائرڈ حج ہائیکورٹ۔۶۔پروفیسر حمید احمد خان صاحب سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی۔ان تبصروں میں سے بعض درج ذیل ہیں۔ا۔ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے تعارف میں لکھا:۔اسلام کا نظام وراثت اپنے اعتدال، توازن اور ترتیب حقوق نیز متوفی اور ورثاء دونوں کے جذبات کے احترام کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔دنیا کا کوئی دوسرا نظام وراثت خواہ وہ مذاہب عالم کا پیش کردہ ہو یا نظریاتی حکومتوں کا مرتب کردہ ، اسلامی نظام وراثت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔اسلامی نظام وراثت میں ہر ایک وارث کے حقوق کو ایسے حسین اعتدال کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے کہ روح انسانی وجد میں آجاتی ہے۔قرآن پاک اور دین اسلام کی اصل زبان چونکہ عربی ہے اسی لئے جولوگ عربی نہیں جانتے وہ اس نظام وراثت کی بے نظیر خوبیوں سے بھی پوری طرح واقفیت حاصل نہیں کر سکتے۔علاوہ ازیں وارثوں کے حصوں کی تعیین کا علم حساب سے گہرا تعلق ہے اور پرانا طریق حساب بڑا مشکل اور پیچیدہ نوعیت کا ہے اس لئے بھی اس نظام کے سمجھنے میں مشکل پیش آجاتی ہے ان ہر دو مشکلات کو ہمارے عزیز بھائی محترم پروفیسر عبدالرشید صاحب غنی ایم۔ایس سی نے بڑی خوبی اور قابلیت کے ساتھ حل کیا ہے اس وقت تک اردو میں جتنی بھی کتا بیں اسلامی نظام وراثت پر لکھی گئی ہیں وہ پرانی طرز کی اور بہت ہی پیچیدہ ہیں لیکن محترم غنی صاحب نے بڑے آسان اور حسین انداز