تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 104 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 104

تاریخ احمدیت۔جلد 27 104 سال 1971ء پکارا کہ اتنے میں دشمن نے مشین گن سے برسٹ مارا جو کہ سیدھا ان کے سینے پر لگا اور وہ وہیں گر گئے۔صوبیدار صاحب نے جب یہ صورتحال دیکھی کہ کیپٹن صاحب شہید ہو گئے ہیں اور دشمن کی طرف سے جوابی حملہ شروع ہو چکا ہے اور ان کے پاس اب اسلحہ بھی نہیں رہا تو اس نے واپسی کا حکم سنا دیا اور یوں وہ مندر پوسٹ پھر ایک دفعہ دشمن کے قبضہ میں چلی گئی۔اس کے بعد فوج نے ۲۔۳ بار دوبارہ حملہ کر کے مندر پوسٹ پر قبضہ کرنا چاہا مگر وہ پوسٹ دوبارہ قبضہ میں نہیں آئی۔دشمنوں نے کیپٹن مجیب شہید کو بہترین خراج تحسین پیش کیا اور اس کی وہیں پر تدفین کر دی۔ان کے اس اعتراف پر کہ یہ ایک انتہائی بہادر افسر تھا اُس کو پاکستان آرمی نے ستارہ جرات سے نوازا۔اس کی میت چھ ماہ کے بعد انڈین آرمی نے پاکستان آرمی کے حوالے کی۔کیپٹن مجیب فقر اللہ کی تدفین فوجی اعزاز کے ساتھ قبرستان میانی صاحب لاہور میں ہوئی۔لیفٹینٹ ممتاز انور صاحب شہید ستارہ جرات تاریخ شہادت: ۵،۴ دسمبر ۱۹۷۱ء 100۔ممتاز انور شہید پاک بحریہ کے تباہ کن جہاز خیبر کے چیف انجینئر تھے۔ایک بار جب بدر جہاز سمندری طوفان کی لپیٹ میں آگیا تو لیفٹینٹ انور نے خود انجن روم کا انتظام سنبھال لیا اور مسلسل تین دن رات ڈیوٹی پر موجود رہے اور جہاز کو بچانے میں کامیاب ہو گئے۔پھر ۱۹۷۱ء کی جنگ میں آپ کا جہاز دشمن کے میزائلوں کی زد میں آ گیا لیکن آپ آخری سانس تک ڈیوٹی پر موجودر ہے اور اپنی جان بچانے کی بجائے اپنے ساتھیوں کی جان بچاتے ہوئے شہید ہو گئے۔اپنے فرائض کو بہادرانہ رنگ میں سرانجام دینے کے اعتراف میں آپ کو ستارہ جرات دیا گیا۔مارچ ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان میں بغاوت شروع ہو چکی تھی۔آپ چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے۔وطن کی سرحدوں نے دفاع کے لئے پکارا تو آپ اپنی رخصت ختم کر کے ڈیوٹی پر حاضر ہو گئے۔آپ کی اہلیہ کہتی ہیں کہ گھر سے رخصت ہوتے وقت مجھے یاد دلایا کہ میں ایک سپاہی کی بیوی ہوں۔ان پر مجھ سے زیادہ حق مادر وطن کا ہے۔وہ کہنے لگے آج وقت آگیا ہے۔میری ماں میری دھرتی اور میرے فرض نے مجھے پکارا ہے اور میں اس پکار پر لبیک کہنے جا رہا ہوں۔سمندری سرحدیں میری منتظر ہیں۔وہ مجھے بلا رہی ہیں کہ دشمن نے سمندر کے سینہ پر اپنا تسلط جمانے کی ناکام کوششیں شروع کر دی ہیں۔جب تک میں زندہ ہوں دشمن کا ہر ڈ ر سینہ پر سہوں گا۔‘ 101 66