تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 103 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 103

تاریخ احمدیت۔جلد 27 103 سال 1971ء اس کے کرنل نے مندر پوسٹ دوسرے افسر کو الاٹ کر دی کہ وہ حملہ کرے گا مگر کیپٹن مجیب شہید نے کہا کہ سر اس پر حملہ میں کروں گا۔کرنل نے وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ سر ۱۹۶۵ء کی جنگ میں کوئی پاکستانی فوجی اس پوسٹ کو فتح نہیں کر سکا مگر میں مجیب خان اس دفعہ اس پوسٹ کو Capture کروں گا۔چنانچہ مجیب شہید کے اصرار پر کرنل صاحب نے اپنا فیصلہ بدل دیا اور مندر پوسٹ پر۔کی ذمہ داری کیپٹن مجیب شہید نے حاصل کر لی۔چنانچہ رات کے پچھلے پہر مجیب شہید نے مندر پوسٹ کی طرف چڑھائی شروع کر دی۔اوپر سے شدید فائرنگ ہوئی تو ان کو پتھروں کے پیچھے پناہ لینی پڑی۔اس وقت سب سے آگے کیپٹن مجیب شہید تھا اور اس کے پیچھے اس کا صوبیدار تھا۔مجیب شہید نے پوچھا کہ باقی جو ان کہاں ہیں تو صو بیدار صاحب نے جواب دیا کہ شدید فائرنگ کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ہیں۔کیپٹن مجیب شہید نے نعرہ لگایا کہ جوانو! آگے بڑھو۔مگر فائرنگ کی شدت سے اوپر چڑھنا بے حد مشکل ہو گیا۔صوبیدار صاحب نے کہا کہ سر شدید فائرنگ کی وجہ سے اوپر چڑھنا مشکل ہے لہذا واپس اتر جاتے ہیں مگر کیپٹن شہید نے صو بیدار صاحب کو کالر سے پکڑا اور کہا کہ اس وقت میرا خون اُبل رہا ہے میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔تم میرے ساتھ اوپر چڑھو۔باقی بھی ہمارے پیچھے آہی جائیں گے۔چنانچہ صوبیدار کے بقول کیپٹن شہید نے اس کو گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ اوپر کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔صو بیدار صاحب کا بیان ہے کہ نجانے مجیب شہید میں کتنی طاقت تھی کہ وہ نہ صرف خود اوپر کی طرف بھاگ کر چڑھ رہا تھا بلکہ مجھے بھی ساتھ ساتھ کھینچ رہا تھا۔چنانچہ یہ دونوں بھاگتے ہوئے او پر پہنچ گئے اور شدید فائرنگ کے بعد دست به دست لڑائی سے مندر پوسٹ کے چند مورچے خالی کروالئے۔اس دوران باقی جوان بھی اوپر پہنچ گئے اور باقی پوسٹوں کو بھی قبضہ میں کر لیا۔کیپٹن مجیب شہید نے کرنل صاحب کو فتح کی کامیابی کی خوشخبری دی اور ساتھ ہی کہا کہ مزید اسلحہ بھیج دیں تا کہ جوابی حملہ کی صورت میں ہم پوسٹ کا دفاع کر سکیں۔فوری طور پر جوابی حملہ آیا جو کہ انہوں نے پسپا کر دیا اور پھر دوبارہ اپنی پوزیشن ٹھیک کرنے لگے ساتھ ہی نیچے پیغام دیا کہ اسلحہ فوری بھیجیں ورنہ یہاں ٹھہر نا مشکل ہو جائے گا۔ابھی تک اندھیرا تھا چنا نچہ کیپٹن مجیب صاحب نے اپنی پوزیشن میں مزید تبدیلیاں کیں۔انہیں اپنے ایک حوالدار کی تلاش تھی جو کہ انہیں ابھی تک نہیں ملا تھا۔اس کو تلاش کرتے ہوئے ایک جگہ پہنچے تو وہاں ایک مورچے میں دشمن چھپے بیٹھے تھے۔جو نہی کیپٹن مجیب اس مورچے کے پاس پہنچے تو انہوں نے دوبارہ حوالدار کو