تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 101
تاریخ احمدیت۔جلد 27 101 سال 1971ء کیپٹن مجیب فقر اللہ صاحب شہید ستارہ جرات تاریخ شہادت: ۴ دسمبر ۱۹۷۱ء مجیب فقر اللہ صاحب ۱۸ نومبر ۱۹۴۶ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔بچپن سے ہی قومی خدمت کا جذبہ دل میں موجزن تھا۔۱۹ مئی ۱۹۶۵ء کوکا کول میں ٹریننگ کے لئے داخل ہوئے اور ۱۹ نومبر ۱۹۶۵ء کوٹریننگ مکمل کر کے کھاریاں چھاؤنی میں تعینات ہوئے۔والد کی وفات کے بعد والدہ اور بھائی بہنوں کو والد کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔آپ کی والدہ صاحبہ محترمہ ممتاز فقر اللہ صاحبہ لا ہور رقمطراز ہیں:۔۲۰ مئی ۱۹۷۱ ء کو اس کا نکاح کیا اس نے کہا کہ امی ملک کے حالات بہت خراب ہو رہے ہیں آپ ابھی نکاح نہ کریں۔میں نے کہا بیٹے میری خواہش ہے تیری خوشی دیکھوں۔کوئی بات نہیں۔غازی بن کے آؤ گے تو شادی کریں گے۔ہنس کر جواب دیا۔امی شہید کو چھوڑ دیا ہے اگر میں شہید ہو گیا تو پھر؟ میں نے کہا یہ سب خدا کو معلوم ہے اس طرح تو دنیا میں کوئی کام نہ ہوں۔واقعی ملک کے حالات دن بدن خراب سے خراب تر ہوتے گئے۔پھر ایک دن میرا چاند بھی پورا لیس ہو کر اپنے مورچہ میں چلا گیا۔میں نے لکھا کہ بیٹے ملک پر سخت وقت آن پڑا ہے۔دودھ کی لاج رکھنا۔آپ کے بعد مجیب تو پیدا ہوتے رہیں گے آج اس گھر میں کل اُس گھر میں مگر میرے لال ملک ایک دفعہ جا کر پھر واپس نہیں آتے۔میری دعا ہے میرے تمام مجیب اور تمام چراغ ( داماد ) جس جس محاذ پر ہیں سب کے سب غازی اور فاتح ہو کر آئیں۔مکار دشمن پر ضرب کاری لگے کہ دوبارہ اٹھ نہ سکے۔خط ملتے ہی فون پر کہا امی جان ایسا ہی ہو گا۔یہ بزدل دشمن بھی کیا یادر کھے گا کہ مجیب خاں آیا ہے۔امی دعا کریں شہادت نصیب ہو۔خدا تعالیٰ قید سے نجات دے۔سو میرے مہربان خدا نے میرے بیٹے کی یہ خواہش بھی پوری کر دی۔دشمن کو کاری ضرب لگائی کہ اس نے اقرار کیا کہ اس نے ہمارا بہت نقصان کیا ہے۔دشمن کی تین تو ہیں اپنے ہاتھ سے ٹھنڈی کیں۔خود اپنے آپ کو پیش کیا اور یہ پوسٹ بھی خود پسند کی کہ میں اسے فتح کروں گا۔۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء کو (اپنی ڈائری میں ) لکھا ہے کہ آج کے دن میں نے قسم لی تھی اور مجھے کمیشن ملا تھا یہ قسم مجھے اُسی طرح یاد ہے جیسے میں ابھی لے رہا ہوں انشاء اللہ جس وقت میرے ملک اور مذہب کو