تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 95 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 95

تاریخ احمدیت۔جلد 27 95 سال 1971ء ہیں۔آج صبح بی بی سی کی ایک چھوٹی سی خبر یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں دشمنوں نے قتل عام شروع کر دیا ہے وہ غلط فہمیوں میں مبتلا بنگالی مسلمان جو یہ سمجھتا تھا کہ اسے آزاد نہ حکومت کرنے کے لئے موقع دیا جائے وہ ہندو کی تلوار کے نیچے آ گیا ہے۔۱۹۴۷ء میں تو ہم نے چند لاکھ کی قربانی دی تھی اب کہیں چند ملین (Million) کی یعنی ستر اسی لاکھ یا ایک کروڑ کی قربانی نہ دینی پڑے۔پس وہاں اس قسم کے حالات ہیں۔اس لئے ہمارا دل دکھ محسوس کر رہا ہے اور ہمارا ذہن پریشان ہے اور اس پریشانی کو دور کرنا سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کی طاقت نہیں ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے سوا اس کے فضلوں کو جذب کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔پس ہم خدا تعالیٰ کی نازل ہونے والی ہر خیر کو پسند کرتے اور مانگتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے ہمیں کہا ہے کہ كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ محمد صلی اللہ علیہ وسلم 95۔اس لئے ان دنوں میں دوست خصوصی طور پر بہت زیادہ درود بھیجیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں۔پہلے تو میں نے سینکڑوں میں کہا تھا کہ سبحان له وبحمده سبحان الله العظيم اللهم صل على محمدٍ وَ آلِ محمد پڑھا کریں۔اب عدد کی حدود سے پھلانگ کر آگے نکل جائیں اور ہر وقت یہ تسبیح وتحمید اور درود پڑھیں تاکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت اور اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت کے نتیجہ میں ہمیں وہ مل جائے جس کے لینے کے ہم خواہش مند ہیں“۔96 مغربی محاذ پر فائر بندی کا حکم ۱۷ دسمبر ۱۹۷۱ء کو صدر پاکستان نے مغربی محاذ پر فائر بندی کا حکم دے دیا اور ایک بیان جاری کیا کہ آج رات ساڑھے سات بجے مغربی محاذ پر پاکستان کی طرف سے فائر بندی ہوگی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کا جنگ پر حقیقت افروز تبصرہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ۱۸ فروری ۱۹۷۲ء کو خطبہ جمعہ میں ہندوستان سے لڑی جانے والی ۱۹۷۱ ء کی جنگ پر نہایت حقیقت افروز تبصرہ کیا اور غزوہ بدر، جنگ یرموک اور مسلم سپین کے معرکہ یوسف بن تاشفین کے واقعات پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ:۔