تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 79 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 79

تاریخ احمدیت۔جلد 26 79 سال 1970ء احمد رفیق صاحب تحریر کرتے ہیں کہ یہ سارا راستہ خشک اور چٹیل میدانوں پر مشتمل تھا۔کہیں کہیں زیتون اور انگور کے باغات نظر آتے ہیں۔راستہ میں دیہات اور مکانات کی تعمیر کی طرز اور برلب سڑک واقع ہوٹلوں کو دیکھ کر یہی اندازہ ہوتا تھا کہ غربت بہت زیادہ ہے۔گرمی بھی خاصی تھی۔راستہ میں دو تین جگہ ٹھہر تے ہوئے شام کے وقت قرطبہ میں داخل ہوئے۔آج کا قرطبہ اسلامی دور کے قرطبہ کا ہزارواں حصہ بھی نہیں۔کہاں وہ حال کہ سارے یورپ میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا اور کہاں آج کا شکستہ عمارتوں سے اٹا ہوا شہر۔حضور کا قیام ہوٹل میلیا (Melia) میں تھا۔شام کو حضور ہوٹل سے باہر سیر کو نکلے تو تمام شہر رنگارنگ کے برقی قمقموں سے بقعہ نور بنا ہوا تھا۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ کوئی عیسائی تہوار منایا جا رہا ہے۔میرے دل نے بے ساختہ کہا۔نہیں عالم روحانیت میں آج شہزادہ امن حضرت ناصر دین کی آمد کی خوشی میں چراغاں کا اہتمام کیا گیا ہے۔حضور ہوٹل کے باہر سڑک کے کنارے چہل قدمی فرما رہے تھے اور آگے جاتے لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ یہ کون بزرگ ہیں جن کے چہرے پر نور پھر یریاں لے رہا ہے۔ایک شخص نے ہوٹل کے دروازہ پر مجھ سے پوچھا کہ یہ کہاں کے ”سلطان“ ہیں۔میری روح کی گہرائیوں سے جواب ابھر امملکت روحانیت کے۔شام ہی کو حضور قرطبہ کی جامع مسجد دیکھنے تشریف لے گئے۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ کسی عیسائی تقریب کی وجہ سے پادریوں کا جلوس نکالا جارہا ہے۔یہ جلوس مسجد ہی میں ترتیب دیا گیا تھا۔حضور کے پہنچنے تک جلوس کا بیشتر حصہ مسجد سے نکل چکا تھا۔بس اس کی دم باقی تھی اس حسن اتفاق پر میرا دل مچل مچل اٹھا کہ ایک طرف حضرت ناصر دیں مسجد میں داخل ہورہے تھے اور دوسری طرف عیسائیت کا قافلہ وہاں سے نکل رہا تھا ذ ہنوں نے اس نظارے کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور عیسائیت کے آثار کے مٹ جانے سے تشبیہہ دی اور پھر جس طرح آنکھوں نے عیسائی جلوس کو مسجد سے باہر نکلتے دیکھا تھا اسی طرح آنکھوں نے انہیں تصور روحانی میں مسجد کو خالی کرتے دیکھا اور دل نے گواہی دی کہ اب عنقریب پھر اس مسجد کی قسمت جاگ اٹھنے والی ہے۔اب پھر وہ زمانہ آنے والا ہے کہ یہ مسجد نمازیوں اور اذانوں سے آباد ہو جائے گی۔اور لوگ بڑے فخر سے کہا کریں گے کہ اس مسجد کو دیکھنے کے لئے حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے تیسرے خلیفہ راشد ہزاروں میل کی مسافت طے کر کے یہاں آئے تھے۔حضرت عمر جب یروشلم تشریف لے گئے تھے تو جہاں آج مسجد اقصی کی خوبصورت عمارت کھڑی