تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 78
تاریخ احمدیت۔جلد 26 78 سال 1970ء ۲۷ مئی کو قرطبہ کے لئے روانہ ہوئے۔قرطبہ میں آمد قرطبہ اسلامی دور حکومت میں سپین کے شہروں میں گویا لعل کی حیثیت رکھتا تھا اور صحیح معنوں میں عروس البلاؤ کہلانے کا مستحق تھا۔اس کے ارد گرد مضبوط فصیل تھی۔سارا شہر پختہ اور فراخ شاہراہوں پر مشتمل تھا۔اس کے شہری زیور علم سے آراستہ تھے۔قرطبہ کی اسلامی یو نیورسٹی میں ہزاروں طلباء زیر تعلیم تھے۔تمام یورپ اور ایشیاء کے طالب علم قرطبہ کے کسی جامعہ میں داخلہ اپنے لئے بہت بڑا اعزاز سمجھتے تھے۔علماء کی کثرت تھی۔ابن رشد جیسے عظیم انسان قرطبہ ہی میں رہتے تھے۔اسلامی فن تعمیر سے مزین شاہی محلات کی خوبصورتی نے شہر کی رونق کو دوبالا کر دیا تھا۔شہر کی لمبائی امیل کے قریب تھی مسلمان خلفاء نے دنیا بھر سے نادر و نایاب درخت اور بیل بوٹے منگوا کر قرطبہ کی زینت کو چار چاند لگائے۔باغات کو پانی مہیا کرنے کے لئے قرطبہ کے اردگرد سے ) سلسلہ کوہ کو بڑی محنت سے کاٹ کر کر نہریں نکالی گئی تھیں جو شفاف پانی مہیا کرتی تھیں اور اسی پانی کی بدولت قرطبہ ایک گلستان کی صورت اختیار کر گیا تھا۔قرطبہ خوبصورت مساجد کا گھر بھی تھا۔ان میں سے سب سے عظیم اور ظاہری حسن سے مالا مال قرطبہ کی جامع مسجد تھی۔اس مسجد کی تعمیر کا کام ۷۸۴ عیسوی میں امیر عبدالرحمن نے شروع کیا۔اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹے ہشام نے ۷۹۳ عیسوی میں اس کام کو مکمل کیا۔یہ مسجد اسلامی فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے ان دونوں کے بعد ہر مسلمان بادشاہ نے مسجد کی خوبصورتی اور وسعت میں اضافہ کی کوشش کی کسی نے سارے کا سارا فرش سنگ مرمر کا لگوایا تو کسی نے اس کے ستونوں پر سونے کا پانی چڑھوا دیا۔کسی نے نئے اونچے مینار کا اضافہ کیا تو کسی نے وضو کے لئے کشادہ نسل خانوں کا اہتمام کیا۔اس مسجد کی وسعت کا اندازہ اس ایک بات ہی سے لگا لیجئے کہ یہ ۱۲۹۳ ستونوں پر قائم ہے اسے روشن کرنے کے لئے ۴۰۰ فانوس جلائے جاتے۔محراب اور منبر ہاتھی دانت اور بہترین لکڑی کے ٹکڑوں سے بنائے گئے تھے اور اس کی تکمیل پر ۳۶۰۰۰ ہاتھی دانت اور قیمتی لکڑی کے ٹکڑے استعمال ہوئے تھے۔میڈرڈ سے قرطبہ حضور مع خدام مورخہ ۲۷ مئی کو صبح سویرے میڈرڈ سے قرطبہ کے لئے روانہ ہوئے۔محترم بشیر