تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 68 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 68

تاریخ احمدیت۔جلد 26 68 سال 1970ء تھا اپنی بیٹی کے ذریعہ بھجوایا۔جسے حضور انور نے بہت خوشی اور مسرت کے ساتھ قبول فرمایا۔ائیر پورٹ پر حضور انور نے یہ تاکید فرمائی تھی کہ یہ ٹوکری سامان کے ساتھ ہی جائے گی لیکن غلط فہمی سے پیغام کی شکل یہ بن گئی کہ ٹوکری ساتھ نہیں جائے گی اور مکرم مستری فضل دین صاحب کو دیدی جائے۔چنانچہ ٹوکری مکرم مستری صاحب کو دے دی گئی۔جب حضور انور سیرالیون سے ایمسٹر ڈیم کے لئے روانہ ہوئے تو جہاز راستے میں لاس پالماس Las Palmas کے ائیر پورٹ پر اترا۔( لاس پالماس ایک صحت افزاء مقام ہے اور پین کا ایک جزیرہ ہے) حضور انور جب لاؤنج میں تشریف لے گئے تو حضور کو پتہ چلا کہ ٹوکری ساتھ نہیں لائی گئی۔اس پر حضور نے بہت ناراضگی اور سخت تکلیف کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ قیمتی تحفے صرف وہی ہوتے ہیں جن کی قیمت سگوں میں زیادہ ہو۔میں تو اس محبت اور اخلاص کو دیکھتا ہوں جس سے ایک بوڑھی احمدی خاتون نے یہ تحفہ پیش کیا۔فرمایا کہ وہ ٹوکری فوراوا پس منگوائی جائے۔اس کے بعد جب بھی حضور کو یاد آجاتا حضور افسوس کا اظہار فرماتے۔سیرالیون سے ہالینڈ روانگی ۱۴ مئی کو مغربی افریقہ کا یہ تاریخ ساز دورہ انتہائی کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچا اور حضور اسی روز بذریعہ ہوائی جہاز ہالینڈ کے شہر ایمسٹر ڈیم روانہ ہو گئے۔ہوائی اڈہ پر سیرالیون کے مبلغین ( مولوی محمد صدیق صاحب گورداسپوری (امیر و انچارج مشنری)، مولوی عزیز الرحمن صاحب خالد، مولوی منصور احمد صاحب، مولانا مقبول احمد صاحب ذبیح) ، عہدیداران جماعت، دیگر احباب اور ملک کے اعلیٰ سرکاری حکام نے حضور کو الوداع کہا۔روانگی سے قبل حضور نے ائیر پورٹ کے اندر آتے ہوئے جملہ احباب کو شرف مصافحہ بخشا اور ہاتھ اٹھا کر لمبی پُر سوز دعا کی۔جہاز سرزمین بلال سے ساڑھے بارہ بجے دوپہر روانہ ہوا تو حضور نے بے تابانہ جہاز کی کھڑکی میں سے تمام احباب کو السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کہہ کر الوداع کہا۔یہ منظر بھی بہت دردناک تھا دل غمگین اور آنکھیں نمناک تھیں لیکن روھیں جذبات تشکر سے لبریز۔ایمسٹرڈیم میں تشریف آوری حضور سوانو بجے شب ایمسٹر ڈیم پہنچ گئے۔ایئر پورٹ پر حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب (صدر عالمی عدالت ہیگ)، مولوی عبد الحکیم صاحب اکمل ( انچارج مشن ہالینڈ )، چوہدری مشتاق احمد