تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 66
تاریخ احمدیت۔جلد 26 66 سال 1970ء علاقہ کی احمدی جماعتوں نے حضور کی زیارت کی۔حضور نے اپنے دستِ مبارک سے طلباء میں انعامات تقسیم فرمائے۔اس موقعہ پر ایک سکول کے ۵۶ طلباء اور دو اساتذہ نے حضور کے دست مبارک پر بیعت بھی کی۔پرنسپل صاحب نے حضور کی خدمت میں سکول کی رپورٹ اور استقبالیہ ایڈریس پیش کیا۔پرنسپل صاحب نے حضور کی اجازت سے ہجرت کو حضور کی تشریف آوری کا دن قرار دیا۔آئیندہ ہر سال اسی تاریخ ، اسی ماہ کو ”یوم ناصر“ منایا جایا کرے گا۔استقبالیہ ایڈریس کے جواب میں حضور نے ایک بصیرت افروز اور پر معارف تقریر ارشاد فرمائی۔جس میں حضور نے موجودہ زمانہ کی معاشرتی برائیوں اور ان میں سے بھی علی الخصوص انسان انسان کے مابین عدم مساوات ، سماجی نا انصافی اور تعلق باللہ سے عدم توجہی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔پرتی حضور نے واضح فرمایا اسلام اور احمدیت کو چھوڑ کر دنیا کا کوئی دوسرا مذ ہب یا ازم بنی نوع انسان کو ان برائیوں سے نجات نہیں دے سکتا۔ان کا علاج حقیقی اسلام کی بے مثال ولا زوال تعلیم پر عمل پیرا ہونے میں ہی مضمر ہے۔احمد یہ سیکنڈری سکول کے معاینہ اور تقریب سے فارغ ہو کر حضور جماعت احمد یہ سیرالیون کی طرف سے منعقدہ استقبالیہ تقریب میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے۔تلاوت وقصیدہ کے بعد جماعت احمد یہ سیرالیون کے صدر پیراماؤنٹ چیف گمانگا صاحب نے سیرالیون کے احمدیوں کی طرف سے حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا۔ایڈریس کے بعد حضور نے نہایت روح پرور خطاب فرمایا۔حضور نے فرمایا کہ آج ہر چہرہ پر جو میرے سامنے ہے مجھے حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی سچائی کا نور نظر آ رہا ہے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض و غایت بیان فرمائی اور فرمایا کہ دنیا آپ کو شناخت نہ کر سکی۔ہر قسم کے حیلے اور حربے آپ پر آزمائے گئے لیکن یہ آسمانی آواز خاموش نہ کی جاسکی۔حضور نے فرمایا کہ آج انسانیت کو تین اہم مسائل درپیش ہیں۔پہلا مسئلہ انسانی مساوات کا مسئلہ ہے۔دوسرا مسئلہ دولت کی منصفانہ اور دانشمندانہ تقسیم سے تعلق رکھتا ہے۔تیسرا مسئلہ تعلق باللہ کا ہے۔79 سیرالیون میں دیگر مصروفیات اس کے بعد حضور حضرت مولانا نذیر احمد علی صاحب کی قبر پر تشریف لے گئے اور دعا کی۔آر۔