تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 50 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 50

تاریخ احمدیت۔جلد 26 50 سال 1970ء ٹیجی مان میں تقریر اور مسجد کا سنگ بنیاد سید نا حضرت خلیفہ مسیح ۲۲ / اپریل کو ٹیچی مان تشریف لے گئے۔اس علاقہ میں اُن دنوں استی احمدی جماعتیں موجود تھیں۔یہاں کے مخلص احمدی بھائی اور بہنوں نے جس انداز اور جس اخلاص سے حضور کا خیر مقدم کیا اس کا رنگ ہی نرالا تھا۔سڑک پر جابجا گیٹ خوشنما کپڑوں سے سجائے گئے تھے۔احباب اور بہنیں قطار اندر قطار مسرور دلوں اور عشق و محبت سے سرشار روحوں کے ساتھ والہانہ انداز میں نعرے لگا رہے تھے اور حضور کی خدمت میں السلام علیکم اور اھلاً و سھلاً و مرحبا کا ہدیہ پیش کر رہے تھے۔جس جگہ حضور نے تقریر کرنا تھی اسے نہایت خوبصورت شامیانوں اور جھنڈیوں سے سجایا گیا تھا۔سامنے میدان میں لوائے احمدیت اور خدام الاحمدیہ کا جھنڈا لہرا رہا تھا اور ہزاروں کی تعداد میں احباب حضور کے دیدار اور تقریر کے لئے محو انتظار تھے۔پہلے حضور کی خدمت میں استقبالیہ ایڈریس پیش کیا گیا۔اس کے بعد حضور نے محبت اور روحانیت سے لبریز ایک تقریر فرمائی جو گویا روح کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی مجسم دعا تھی۔توحید باری ، رسالت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی باطل شکن بعثت، قیامِ دین کی تشریح اور انسانیت کی عظمت کے قیام کے سلسلے میں ایک للکار تھی جس سے دلوں کے زنگ ڈھل گئے اور ایمانوں کی تجدید ہوگئی۔اس موقع پر علاقہ کے پیرا ماؤنٹ چیف اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔تقریر کے بعد حضور نے مسجد کا سنگ بنیا د رکھا اور نماز پڑھائی اور پھر مصافحوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔تقریباً تین ہزار مردوں نے حضور سے اور قریباً اتنی ہی احمدی بہنوں نے حضرت بیگم صاحبہ سے مصافحہ کیا۔شام کو حضور واپس کماسی تشریف لے آئے۔54 شاندار استقبالیہ ۲۲ اپریل کی شب کو کماسی میں وسیع پیمانے پر حضور کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔جس میں احمدی احباب کے علاوہ علاقہ کی اہم شخصیات ، قبائل کے چیفس اور یو نیورسٹی کے پروفیسرز بھی شامل ہوئے۔الحاج الحسن عطاء صاحب نے ان سب حضرات کا تعارف کرایا۔اشانٹی قبیلہ کے بادشاہ کا تر جمان حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں سومیل پیدل چل کر حاضر ہوا ہوں، بیمار رہتا ہوں حضور کی دعا کی تاثیر کا قائل ہوں، میری صحت کے لئے دعا کریں، چنانچہ حضور نے دعا کی۔