تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 49 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 49

تاریخ احمدیت۔جلد 26 49 سال 1970ء رے کے لاکھوں کروڑوں فرزند ہیں لیکن آپ ہی کو ان سب میں سے چنا۔تقریر کے بعد باری باری سب احباب کو شرف مصافحہ بخشا۔افتتاح کے موقع پر حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ نے کشف میں دیکھا کہ عین دعا کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بقاش چہرہ بادلوں سے نمودار ہوا جبکہ زمین بھی خوشی سے لبریز تھی اور آسمان بھی خوشی سے معمور تھا۔کماسی یو نیورسٹی میں تقریر 51 اسی دن شام کو حضور نے کماسی یو نیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وسیع ہال میں ایک بصیرت افروز تقریر فرمائی۔جس میں تدبیر اور دعا دونوں کی اہمیت کو مؤثر انداز میں بتایا اور وضاحت فرمائی کہ حقیقی اور صحیح علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق کے بغیر علم بے مقصد اور بے منزل ہو کر رہ جاتا ہے اس لئے تحقیق کے میدان میں صحیح طور پر قدم مارنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا گیا علم ہی حقیقی علم ہے۔تقریر کے بعد حضور نے سوالوں کے برجستہ اور پُر معارف جواب دئے جس سے حاضرین بہت محظوظ ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی قبولیت دعا کا ایک درخشندہ نشان مکرم محبوب عالم خالد صاحب ناظر بیت المال آمد تحریر کرتے ہیں کہ صدرانجمن احمدیہ کے بجٹ میں گذشتہ سال کی نسبت خاصا اضافہ تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں بار بار دعا کے لئے عرض کیا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں۔۶ را پریل کو آمد میں ابھی خاصی کمی تھی۔اس سلسلہ میں حضور انور کی خدمت میں بذریعہ تار عرض کیا گیا کہ اتنی کمی ابھی باقی ہے۔حضور انور نے فورا کماسی (افریقہ) سے تار دیا انشاء اللہ کوئی کمی نہ رہے گی“۔حضور انور کی دعاؤں کی برکت سے روپیہ بارش کی طرح آنا شروع ہو گیا۔ے مئی لازمی چندہ جات کی رقوم کے مرکز میں پہنچنے کی آخری تاریخ تھی مخلصین جماعت کے جذبہ ایثارکا اس سے اندازہ فرما ئیں کہ صدرانجمن احمدیہ کے لازمی چندہ جات میں یکم اپریل سے لے مئی تک وصولی خدا کے فضل سے سات لاکھ سے زیادہ ہوئی۔اس طرح خدا کے فضل سے صدرانجمن احمدیہ کا بجٹ نہ صرف پورا ہوا بلکہ خاصی بیشی کے ساتھ پورا ہوا۔53