تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 44
تاریخ احمدیت۔جلد 26 44 سال 1970ء ہے۔لہذا میرا پیغام یہ ہے کہ اپنی پوری ہمت اور پوری طاقت کو مجتمع کر کے علمی تحقیق میں لگ جاؤ۔میں دعا کرتا ہوں کہ ہمارا رحمن و رحیم خدا ایک بہتر زندگی کے لئے ہماری کوششوں کا رخ مناسب سمت کی طرف پھیر دے۔تقریر کے بعد مقامی احباب نے ملاقات اور مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔قبول احمدیت کا ایک اعجازی نشان ۱۳ را پریل کو حضور نے مالم وزیری عبد و صاحب سے ( جو گورنمنٹ کے ڈپٹی سیکرٹری تھے اور عرصہ سے زیر تبلیغ تھے اور دورہ نائیجیریا میں آپ کے ڈرائیور بھی رہے ) دریافت فرمایا کہ آپ احمدیت کیوں قبول نہیں کرتے۔انہوں نے کہا ابھی میری تسلی نہیں ہوئی۔حضور نے جیب سے عطر کی شیشی نکال کر انگلی سے خوشبو ان کی گردن پر لگائی اور فرمایا کہ آپ آج سورج غروب ہونے سے قبل احمدیت میں داخل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ ناممکن ہے۔میں احمدیت قبول نہیں کروں گا۔حضرت صاحب نے جواب نہیں دیا۔حضور نے اونچی آواز میں تلاوت شروع کر دی۔اور تقریباً ۴۵ منٹ تلاوت فرماتے رہے۔نماز عصر کے بعد وزیری عبد و صاحب آئے اور انہوں نے کہا کہ میں احمدیت قبول کرتا ہوں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حضور کے دستِ مبارک پر بیعت کرنے کا شرف عطا فرمایا بعد میں ان کا سارا خاندان احمدی ہو گیا۔کانو کے وفد سے ملاقات ۱۴ را پریل کو حضور کا کا نوشہر روانگی کا پروگرام تھا لیکن موسم کی خرابی کے باعث ہوائی جہاز وہاں نہ جاسکا۔اس پر کا نو کے مبلغ مکرم محمد بشیر احمد صاحب شاد اور ہسپتال کے ڈاکٹر مکرم ضیاء الدین صاحب واقف زندگی بذریعہ لوکل فلائٹ حضور کی خدمت اقدس میں لیگوس پہنچ گئے۔حضور نے ان سے فرمایا کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہیں اسی کی خاطر گھر سے روانہ ہوئے تھے وہ جہاں چاہے لے جائے۔مکرم شاد صاحب نے عرض کی کہ ہم نے حضور کی کا نوتشریف آوری کے موقعہ پر ایک سونئے احمدیوں کا تحفہ حضور کی خدمت میں پیش کرنا تھا۔اب خاکسار بیعت فارم لے آیا ہے حضور اس تحفہ کو قبول فرمائیں۔حضور نے اس پر خوشنودی کا اظہار فرمایا اور دعا فرمائی۔42 مقامی جماعتوں کے نمائندگان سے ملاقات ۱۵ر اپریل کو شام پانچ بجے فیڈرل پیلس ہوٹل میں حضور انور نے مقامی جماعتوں کے نمائندگان