تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 43
تاریخ احمدیت۔جلد 26 43 سال 1970ء علیہ وسلم اور آپ کے عظیم روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی شکر یہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں سب یکساں ہیں۔ہمارے کندھوں پر عظیم ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔آئیے! انسانوں کو محبت اور امن کے ساتھ اکٹھا کر دیں۔اس تقریب میں ملک کے طول وعرض سے تین ہزار افراد نے شرکت کی سعادت حاصل کی۔نائیجیریا کے صدر مملکت سے ملاقات 38 ۱۳ را پریل کو دس بجے صبح حضور نے نائیجیریا کے صدر مملکت میجر جنرل یعقو بو گوون سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات فرمائی۔صدر مملکت نہایت احترام کے ساتھ حضور سے ملے۔انہوں نے نائیجیریا میں جماعت احمدیہ کی عظیم کامیابیوں اور تعلیمی، تربیتی اور اخلاقی خدمات کوسراہا اور اس کے لئے حضور کا شکریہ ادا کیا۔حضور نے فرمایا کہ اپنی بساط کے مطابق اور اپنے محدود ذرائع کا خیال رکھتے ہوئے ہم نے یہ حقیر سی خدمت کی ہے۔اس پر صدر مملکت نے فرمایا لیکن یہ خدمت بے غرض خدمت ہے اور ہمارے دل میں اس کا بہت احترام ہے۔اگر کوئی ملک کروڑوں پونڈ بھی ہم پر خرچ کرتا اور اس میں کوئی ذاتی غرض پنہاں ہوتی تو ہرگز ہمارے دلوں میں یہ احترام نہ ہوتا۔اس ملاقات کے دوران حضور نے صدر مملکت کو پاکستانی صنعت کاری کا نمونہ بطور تحفہ پیش کیا جسے انہوں نے بڑی خوشی سے قبول کیا اور پاکستانی صنعت کی تعریف کی۔نصف گھنٹہ کی ملاقات کے بعد رخصت کے وقت صدر مملکت نے حضور سے شرف معانقہ حاصل کیا اور حضور سے دعا کی درخواست کی چنانچہ حضور نے اسی وقت دعا کی۔اخبارات نے حضور انور کی صدر مملکت سے ملاقات کو تفصیل سے دیا اور تصاویر بھی شائع کیں۔ابادان میں بصیرت افروز تقریر 39 اسی روز حضور ابادان تشریف لے گئے اور ایک وسیع و عریض ہال میں بصیرت افروز تقریر فرمائی۔ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ابادان کے مفتی اعظم اور دیگر تمام اکابرین اور مختلف تنظیموں کے نمائندے موجود تھے۔قریباً پانچ ہزار افراد اس تقریر سے مستفید ہوئے۔حضور نے فرمایا کہ آپ کا روشن اور درخشندہ تر مستقبل جسے میں اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہوں نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔حصول علم کی جد و جہد کو بار آور کرنے کے سلسلہ میں اسلام نے جو طریق بتایا ہے وہ دعا کے ذریعہ استمد اد کا طریق