تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 37
تاریخ احمدیت۔جلد 26 37 سال 1970ء روحانیت اور نور ایمان کے چشمے ان کے زبان و قلم سے اس کے کرم سے خاص عطا کردہ جاری فرمائے اور جاری رہیں۔آمین۔خیر سے پہنچیں خیر سے آئیں خیر ہی خیر سفر میں رہے اور یہاں بھی جماعت اور ملک میں ہر لحاظ سے دینی و دنیوی ، روحانی و جسمانی خیر رہے۔خدا تعالیٰ ان کا اور ہم سب کا حافظ و ناصر ہو۔قادر وقد بر مقتدر خدائے کریم رحمان و متان کے حضور دعاؤں میں لگ جائیں۔یہ خلافت بھی خاص اور قابلِ شکر ہے قدر کریں اور دعا کریں۔غرض مختصراً خلیفہ خدا نے جو تم کو دیا ہے عطاء الہی ہے فضل خدا ہے یہ مولا کا اک خاص احسان ہے وجود اس کا خود اس کی برہان ہے خلیفہ بھی اور موعود بھی ہے مبارک بھی ہے اور محمود بھی وو لبوں پر ترانہ ہے محمود کا زمانہ، زمانہ ہے محمود کا“ سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثالث کا سفرمغربی افریقہ اس سال کا مشہور عالم واقعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثالث کا سفر مغربی افریقہ ہے۔اس سفر کے دوران حضور نے نائیجیریا، غانا، آئیوری کوسٹ، لائبیریا، گیمبیا اور سیرالیون جیسے چھ اہم ممالک کو اپنے وجود باجود سے برکت بخشی۔سربراہان مملکت تک پیغام حق پہنچایا اور افریقی عوام کے دل اپنے پر اثر ولولہ انگیز اور بصیرت افروز خطابات کے ذریعہ جیت لئے۔سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ ارضِ بلال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نائب اور خلیفہ راشد بنفس نفیس تشریف لے گئے اور مدتوں سے جماعت احمدیہ کے امام کی زیارت کی حسرت رکھنے والے مخلص افریقن بھائیوں کو دیدار سے فیضیاب فرمایا اور محبت، پیار اور فراست سے ان کی پیاس کو بجھایا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کے لئے سیری کے دائمی سامان پیدا کر دیئے۔اس لہی سفر کے نتیجہ میں احمدیت کی تاریخ کا ایک تابناک اور سنہری دور شروع ہوا۔تحریک دعا آغاز سفر سے قبل سید نا حضرت خلیفہ امسح الثالث نے ۳ اپریل۱۹۷۰ء کو مجد مبارک ربوہ میں خطبہ جمعہ ارشاد کرتے ہوئے فرمایا:۔