تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 383
تاریخ احمدیت۔جلد 26 383 سال 1970ء اور بتایا کہ اس الوداعی ملاقات کا مقصد کا نو میں اپنے طویل قیام کے دوران شمالی ریاست، بلدیاتی انتظامیہ اور اہل کانو کے حسن سلوک پر ان کا شکریہ ادا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب وہ پہلی بار کا نو آئے تھے۔یہاں کے بہت سے لوگ ابھی جماعت احمدیہ سے بکلی باخبر نہ تھے لیکن اب مقامی لوگوں کے تعاون اور ان کی حوصلہ افزائی سے یہاں احمد یہ جماعت کی بہت سی شاخیں قائم ہو چکی ہیں۔شاد صاحب نے امیر کا نوکو یہ ھی بتایا کہ پاکستان سے بعض احمدی مبلغین امریکہ بھی بھیجے گئے تا کہ وہ وہاں سیاہ فام امریکیوں کو اسلام میں داخل کر لیں۔امیر کا نو نے اپنے جواب میں احمدیہ مشن کی مذہبی خدمات پر اظہار تحسین فرمایا۔انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ اسلام میں ایک سنگ میل ہے کہ سیاہ فام امریکن بھی مذاہب میں شوق و جوش دکھلا رہے ہیں۔امیر صاحب نے بتایا کہ وہ اپنے سابقہ سمندر پار دوروں میں بہت سے اسلامی ملکوں مثلاً عراق اور لیبیا وغیرہ کے سفراء سے ملے اور ان سے امریکیوں کے اسلام میں داخل ہونے کے بارہ میں تبادلہ خیالات کیا۔بعد میں مولوی شاد صاحب نے بہت سی کتابیں امیر صاحب کو بطور تحفہ پیش کیں جن میں قرآن مجید اور ایک انگوٹھی بھی شامل تھی۔مولوی صاحب نے سٹیٹ کمشنر برائے تعلیم الحاج مختاری سرکین بائی سے بھی ملاقات کی اور کہا اسلام کے بنیادی ارکان مثلاً صلوۃ (نماز)، رمضان کے روزے، زکوۃ، حج وغیرہ ساری دنیا میں ایک جیسے ہیں۔انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے اتحاد پر زور دیا اور ان سے اپیل کی کہ اپنے اختلافات کو مٹا کر وہ سب کے مشترکہ مفاد کے حصول کی خاطر متحد ہو جائیں۔کمشنر صاحب نے مولوی صاحب کے تابناک مستقبل کے لئے نیک تمناؤں کے ساتھ ان کو رخصت کیا۔ہالینڈ ہالینڈ مشن کے زیر انتظام اس سال بھی حسب دستور ملک کی اہم شخصیات نے تقاریر کیں جس کے نتیجہ میں ہر قسم کے طبقہ کے افراد مشن ہاؤس میں آئے۔سلسلہ کا لٹریچر خریدا۔جناب عبدالحکیم اکمل صاحب انچارج احمد یہ مشن سے گفتگو کا موقع ملا اور مقررین کو جو علمی حلقوں میں امتیازی حیثیت رکھتے تھے سلسلہ کا لٹریچر پیش کرنے کا موقع ملا۔جنوری سے اپریل ۱۹۷۰ء تک مشن کے پبلک جلسوں میں حسب ذیل مقررین نے لیکچر دیئے۔