تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 376
تاریخ احمدیت۔جلد 26 376 سال 1970ء آف برٹین کا جلد ۱۴ میں شائع شدہ حضرت مسیح کی جوانی اور بڑھاپے کی تصاویر تھیں (ان تصاویر کے ساتھ انسائیکلو پیڈیا میں یہ نوٹ دیا گیا ہے کہ یہ روما کے مقدس پطرس کے گرجا میں قدیم یادگاروں میں رکھی ہیں اور ان کی تاریخ یقینی طور پر دوسری صدی عیسوی تک پہنچتی ہے )۔عیسائی حضرات تصاویر دیکھ کر غضبناک ہو جاتے اور ان کا ثبوت مانگتے۔اس طرح گفتگو کا ایک مفید سلسلہ شروع ہو جاتا۔غیر از جماعت مسلمان دوستوں پر اس کا اچھا اثر ہوا۔ملک جمیل الرحمن صاحب رفیق نے مئی ۱۹۷۰ ء کے آخری ہفتہ میں ممباسہ اور ٹاویٹا کے علاقوں کا کامیاب تبلیغی و تربیتی دورہ کیا جس کے دوران آپ نے نیو ائیر سیکنڈری سکول، گورنمنٹ سیکنڈری سکول (کوالے)، گولینی سکول، پرائمری سکول ( زیوانی ) میں آپ نے کامیاب لیکچر دیئے۔ممباسہ میں آپ کے اعزاز میں دعوت عصرانہ کا انتظام کیا گیا جس میں ۵۰ غیر از جماعت عرب، افریقن اور ایشین شامل ہوئے۔رفیق صاحب نے قرآن مجید کی روشنی میں صداقتِ احمدیت ثابت کی اور حاضرین کے سوالوں کے جواب دیئے۔اس دورہ میں آپ نے انفرادی ملاقاتوں کے ذریعہ لنڈی کے سرکاری افسران ، مسلم کسٹم آفیسر اور دیگر کارکنان تک پیغام حق پہنچایا۔ممباسہ کی سیف بن سالم لائبریری کے چیف لائبریرین کو انگریزی ترجمۃ القرآن اور بعض دیگر کتب پیش کیں۔۶، ۷ جون کو کیٹو بو اور کیٹو گوٹو کی احمدی جماعتوں کا اجتماعی جلسہ ایلڈورو کے مقام پر ہوا جس میں مبلغین اور دیگر احباب کی تقاریر ہوئیں۔سامعین میں غیر احمدی اور عیسائی معززین بھی تھے۔جلسہ پُر اثر اور پُر کیف روحانی ماحول میں ہوا۔اس دورے میں مولوی بشیر احمد صاحب اختر مبلغ ٹاویٹا اور احمد شمشیر صاحب سوکیہ ( مبلغ ممباسہ ) بھی تھے۔گی آنا اس سال گی آنا مشن اپنی عمر کے دسویں سال میں داخل ہوا اس قلیل عرصہ میں مشن نے ترقی کی کئی منازل طے کیں۔اس مخلص جماعت نے گذشتہ سال ۸ ہزار ڈالر کی لاگت سے ایک شاندار مسجد کی تعمیر مکمل کی اور پھر اس سال کے آغاز میں نئے جوش و خروش اور نئے جذبے کے ساتھ خدا کے دوسرے گھر کی تعمیر کا آغا ز کر دیا۔چند سال قبل گی آنا کے ریڈیوسٹیشنوں پر یسوع مسیح کے نعرے بلند ہوتے تھے لیکن احمد یہ مشن کی