تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 375 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 375

تاریخ احمدیت۔جلد 26 375 سال 1970ء گیا۔عرصہ زیر رپورٹ میں ۵۶ افراد داخل احمدیت ہوئے۔ان میں ایک کثیر تعداد مولوی محمد صاحب عرف لال ٹوپی آف لمباسا کی کوشش کا نتیجہ تھی۔اس سال کی پہلی ششماہی میں تاوا کو بو پرائمری سکول کی عمارت میں اضافہ ہوا اور محکمہ تعلیم نے پانچویں اور چھٹی جماعت کی اجازت دے دی اور دو مزید سرکاری اساتذہ مہیا کئے جس کے نتیجہ میں طلباء کی تعداد ۸۵ سے بڑھ کر ۱۳۸ تک پہنچ گئی۔مجھی سے مبلغ انچارج مکرم محمد صدیق صاحب امرتسری نے اطلاع دی ہے کہ مشرقی پاکستان میں آنے والے ہولناک سیلاب کے لئے جماعت میں ریلیف فنڈ کے لئے پر زور تحریک کی گئی اور جماعت نبی اپنے ان بھائیوں کی ہر ممکن مدد کرے گی۔كينيا 56 اس سال کی دینی سرگرمیوں میں ایک خاص واقعہ کسوموں کی زراعتی نمائش کے دوران احمد یہ مشن کا پُرکشش سٹال اور اس پر چیف جسٹس اور دیگر افسران کی تشریف آوری ہے۔یہ تبلیغی سٹال مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق اور مولوی منیر الدین احمد صاحب مبلغ کینیا کی مساعی کا رہین منت تھا۔سٹال نمائش سے بھی ایک دن پہلے تیار ہو گیا اور دوسرے دن ساڑھے آٹھ بجے عوام کے لئے کھول دیا گیا اس کا رسمی افتتاح چیف جسٹس صاحب نے کیا ان کے ساتھ کسوموں کے مئیر، کینیا کے وزیر امور تعاون مسٹر مليرو ( Mr۔Multiro) اور پولیس اور سول افسران تھے جنہیں مجاہدین احمدیت نے سلسلہ احمدیہ کی ترقی اور مساعی سے بذریعہ چارٹس متعارف کرایا۔وہ قرآن کریم کے مختلف زبانوں کے تراجم دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔چیف جسٹس صاحب جو مکابا قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔کیکامبا (Kikamba) زبان کا ترجمہ قرآن دیکھ کر از حد مسرور ہوئے اور میئر صاحب سے کہا کہ وہ پڑھ کر بتائیں کہ ترجمہ کیسا ہے۔انہوں نے چند سطور پڑھ کر بے ساختہ کہا کہ بالکل ٹھیک ہے ( Perfectly Right)۔ازاں بعد چیف جسٹس صاحب اور ان کی اہلیہ اور وزیر موصوف کو سلسلہ کے لٹریچر کاتحفہ پیش کیا جو انہوں نے بخوشی قبول کیا۔عوام صبح سے ہی آنے شروع ہو گئے جن میں طلباء، اساتذہ، تاجر، ملازم پیشہ غرضیکہ ہر طبقہ کے لوگ شامل تھے جو سوال پوچھتے بحث مباحثہ کرتے اور لٹریچر خریدتے تھے۔سب سے زیادہ توجہ کا مرکز ایک چارٹ تھا جو حضرت عیسی علیہ السلام کے کفن اور آپ کی قبر ( واقع محلہ خانیار کشمیر ) اور انسائیکلو پیڈیا