تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 367 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 367

تاریخ احمدیت۔جلد 26 367 سال 1970ء آپ نے متعدد آیات قرآنیہ اور واقعات کی روشنی میں ساری جماعت کو توجہ دلائی کہ وہ جلد بیدار ہوں اور سستیاں ترک کر کے ترقی کریں۔ہمارا مقصدِ حیات مغربی ملکوں میں دولت سمیٹنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس دولت کو بھی دین کی اشاعت اور فروغ کے لئے ایک ذریعہ بنا لینا چاہیے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی ذات پر حقیقی ایمان حاصل ہونا چاہیے۔حقیقی ایمان کے لئے خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقلید کا ارشاد فرمایا ہے لہذا اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت ہمارے مدنظر رہنا ضروری ہے۔۵۔اس سال بشیر احمد رفیق صاحب نے بزمِ ادب کے نام سے ایک مجلس قائم کی۔نومبر ۱۹۷۰ء میں مجلس کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کا فیصلہ ہوا اور اس کے پہلے صدر لئیق احمد صاحب طاہر اور سیکرٹری مولوی عطاء المجیب صاحب را شد نائب امام مقرر ہوئے۔نیز قرار پایا کہ بزم کا اجلاس ہر ماہ کے پہلے سنیچر کومحمود ہال میں ہو گا۔اجلاس کے پہلے حصے میں ادبی، سیاسی ، مذہبی ، اقتصادی اور ثقافتی موضوعات میں سے کسی ایک موضوع پر مقالہ پیش کیا جائے گا اور دوسراحصہ شعر و شاعری کے پروگرام کے لئے وقف ہوگا۔تنزانیہ تنزانیہ مشن کی تاریخ میں ۲۳ /اگست ۱۹۷۰ء کا دن ہمیشہ یادگار رہے گا کیونکہ اس روز تنزانیہ کے شہر مور و گورو میں احمدیہ مسجد کے افتتاح کے مبارک تقریب عمل میں آئی۔مولانا محمد منور صاحب مبلغ انچارج تنزانیہ نے فروری ۱۹۷۰ء میں ایک ٹھیکیدار صاحب کو خدا کے اس گھر کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا۔سامان تعمیر لکڑی، لوہا، سیمنٹ وغیرہ جماعت نے مہیا کیا۔افتتاحی تقریب ساڑھے چار بجے بعد نماز عصر منعقد ہوئی۔اس موقع پر چوہدری عنایت اللہ صاحب احمدی مبلغ تنزانیہ نے ان تمام حکام اور مختلف مذہب وملت کے معززین کا شکر یہ ادا کیا جنہوں نے اس خانہ خدا کی تعمیر کے سلسلہ میں اخلاقی یا مالی معاونت فرمائی۔ازاں بعد مولوی محمد منور صاحب نے مسجد کی اہمیت پر سواحیلی زبان میں اپنا مضمون پڑھا جس سے حاضرین بہت متاثر ہوئے۔شامل تقریب ہونے والوں میں ہر طبقہ کے لوگ شامل تھے اور ان کی تعداد قریباً اڑھائی سوتھی۔حکومت اور سیاسی جماعت کے سب سے بڑے افسر ریجنل ایڈمسٹریٹو ، ایکٹنگ ڈپٹی کمشنر صاحب، ریجنل انفارمیشن افسر صاحب، ایک ایڈ منسٹریٹو آفیسر صاحب،