تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 366 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 366

تاریخ احمدیت۔جلد 26 366 سال 1970ء تربیت منانے کا پروگرام بنایا گیا۔چنانچہ اس غرض کے لئے امام مسجد فضل لندن نے حسب ذیل ارکان پر مشتمل تربیت کمیٹی کا اعلان کیا۔چوہدری رشید احمد صاحب (صدر)، الحاج داؤ د احمد صاحب گلزار ( سیکرٹری ) ، ڈاکٹر ولی شاہ صاحب، خواجہ بشیر احمد صاحب (ممبران)۔کمیٹی کی طرف سے تربیت کے سلسلہ میں اہم تجاویز پیش کی گئیں۔اجلاس سے حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے ایک نہایت اثر انگیز خطاب کیا جس میں خدا تعالیٰ سے تعلق اور تو کل اور اسلام کی مقدس عملی تعلیم کا تذکرہ کیا۔ہفتہ تربیت کے دوران مجلس خدام الاحمدیہ لندن کے تعاون سے لندن کو ۲ حلقوں میں تقسیم کر دیا گیا اور آٹھ حلقوں میں نماز با جماعت کے مراکز کا قیام عمل میں آیا۔اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل احباب نے خاص طور پر تعاون کیا خواجہ رشید الدین صاحب قمر قائد خدام الاحمدیہ، خالد اختر صاحب نائب قائد، چوہدری رشید احمد صاحب صدر تربیت کمیٹی۔۴ ۵ ۶ ستمبر ۱۹۷۰ء کو انگلستان کی احمدی جماعتوں کا ساتواں سالانہ جلسہ محمود ہال میں منعقد ہوا اور اس میں ایک ہزار سے زائد احمدی شریک ہوئے۔محمد الیاس خان صاحب، بشیر احمد صاحب آرچرڈ ، جناب عطاء المجیب صاحب را شد اور لئیق احمد صاحب طاہر کے علاوہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے دو تقاریر فرمائیں۔ایک میں حضرت خلیفہ اول کی سیرت کے بعض ایمان افروز واقعات بیان کرنے کے بعد آپ نے یورپ کے آزاد معاشرہ کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہستی باری تعالیٰ کا حقیقی اور مسکت اور مدثل ثبوت اگر کوئی مذہب آج دے سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف مذہب اسلام ہے۔خدا تعالیٰ آج بھی ویسا ہی ہمکلام ہوتا ہے جیسا کہ ہزاروں سال قبل۔اس تقریر سے ایک پادری صاحب (Roud Caombe) بہت متاثر ہوئے اور اعتراف کیا کہ ایسی پر اثر تقریر میرے سننے میں بہت کم آئی ہے۔ایک اور پادری صاحب (Roud Jerry) نے بھی بہت تعریف کی۔حضرت چوہدری صاحب نے دوسری اور اختتامی تقریر میں احباب جماعت کو توجہ دلائی کہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد احیائے دین اور اقامت شریعت تھا۔غیروں کے مقابلہ میں تو اب بھی ہمارا عمل اور ہمارا کردار قابل تحسین و آفرین ہے لیکن سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے لئے جو حقیقی معیار مقرر فرمایا ہے اس تک پہنچنے کے لئے ہمیں بہت فکر کرنی چاہیے۔حضرت چوہدری صاحب نے بہت درد اور کرب سے فرمایا کہ والدین کو چاہیے کہ دن رات تربیت کی طرف توجہ دیں اور اپنی اولادوں کو احمدیت کا شیدائی اور فدائی بنا ئیں۔