تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 353 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 353

تاریخ احمدیت۔جلد 26 353 سال 1970ء تعلیم الاسلام کالج کی مسجد کا سنگ بنیاد ۲۴ جون ۱۹۷۰ء کو سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کی مسجد کا سنگ بنیا درکھا۔بعد ازاں حضور کے ارشاد پر چوہدری انور حسین صاحب امیر جماعت احمد یہ شیخوپورہ نے امراء اضلاع کی نمائندگی کرتے ہوئے اور میاں عبدالسمیع صاحب نون ایڈووکیٹ سرگودھا نے طلباء قدیم کی نمائندگی کرتے ہوئے دو اینٹیں علی الترتیب نصب کیں۔بعد ازاں پروفیسر صوفی بشارت الرحمن صاحب قائمقام پر نسپل اور بعض سینئر ممبران اسٹاف نے ایک ایک اینٹ رکھی۔آخر میں حضور نے اجتماعی دعا کرائی۔اس تقریب پر حاضرین کی شیرینی اور مشروبات سے تواضع کی گئی۔مدیر اہل حدیث کا چیلنج اور پھر خاموشی رسالہ اہل حدیث لاہور کے ایڈیٹر حافظ احسان الہی صاحب ظہیر نے اپنے رسالہ کی اشاعت جولائی ۱۹۷۰ء صفحہ پر مولانا ابوالعطاء صاحب مدیر الفرقان ربوہ کو چیلنج کیا کہ ”ہم آج بھی آپ کو سر عام دعوت دیتے ہیں کہ جس موضوع پر اور جہاں چاہیں ہم سے تقریری یا تحریری گفتگو کر لیں۔مولانا نے یہ علمی دعوت بخوشی قبول کر لی اور دوا ایسے موضوع مقرر کر دیے جن میں کوئی اشتعال انگیزی نہ ہو سکے یعنی ا۔آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی میں توفی سے مراد قبض روح بمعنی موت ہے۔۲۔قرآن مجید کی آیات میں نسخ۔نیز واضح کیا کہ پہلے موضوع میں ہم مدعی ہوں گے اور دوسرے میں مدیر اہل حدیث۔پرچے تحریری ہوں گے۔پہلا اور آخری پرچہ ہر مضمون میں مدعی کا ہوگا۔ہرمنا ظر تحریری پر چہ فریق ثانی کو بصیغہ رجسٹری بھیجے گا اور اسے لکھنے کے لئے دو ہفتے ملیں گے۔تہذیب و متانت کو مدنظر رکھنا لازمی ہوگا۔تاریخ آغاز کا تصفیہ فریقین کے اتفاق رائے سے ہوگا۔مولانا ابوالعطاء صاحب کی طرف سے منظوری کا اعلان ہونے پر ظہیر صاحب کی طرف سے کوئی جواب موصول نہ ہوا اور انہوں نے عملاً خاموشی اختیار کر لی لیکن ساتھ ہی ایک دوسرے رسالہ ترجمان الحدیث ( نومبر ۱۹۷۰ء) میں ایک طویل اور مغلظات سے پر جواب دیا اور توفی کے معنوں پر بحث سے گریز کے لئے مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کی کتاب کی پناہ لی۔حالانکہ یہ واضح بات تھی کہ اگر ان کے مزعومہ عقائد میں کوئی معقول دلیل موجود تھی تو وہ اسے بآسانی اپنے پرچے میں درج کر سکتے 36