تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 347 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 347

تاریخ احمدیت۔جلد 26 صفحہ اول پر ہی یہ لکھا ہے کہ 347 بتایا گیا اس کو الہام میں کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں سال 1970ء میرے خیال میں ہمیں اس پر ناراض ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ خوش ہونا چاہیے کہ گورو صاحب کا مشن کسی ایک مذہب یا قوم تک محدود نہ تھا بلکہ سب کے لئے یکساں تھا۔گور وصاحب کے پر چار کا یہ خاص ڈھنگ تھا کہ وہ ہر ایک کو اس کے مذہب کے اصول کے مطابق ہی سچائی سمجھاتے تھے جس کی وجہ سے ہر شخص انہیں اپنے مذہب کا ہی مبلغ خیال کرتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر لوبلن اور ڈاکٹر میکلینڈ ایسے عیسائی و دوان بھی انہیں عیسائی دھرم سے تعلق رکھنے والا بزرگ سمجھتے تھے۔مختلف مذاہب کے موازنہ کا شوق رکھنے والوں کے لئے گیانی عباداللہ صاحب کی یہ کتاب دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی۔اس کے پہلے حصہ میں یہودی ، عیسائی، ویدک دھرم، سناتن دھرم اور آریہ سماج نیز پارسی مذہب میں خدا تعالیٰ کا جو تصور (Conception of God) ہے اسے بیان کر کے گورو جی کے فلسفہ سے اس کا موازنہ کیا گیا ہے اور ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام مذہب ہی تمام مذاہب کے مقابلہ میں گوروجی کے فلسفہ کے قریب ہے۔اس کتاب کے باقی دوحصوں میں پوجا، نماز، قیامت، جنت اور شیطان وغیرہ سے متعلق اسلام اور گورونانک جی کے خیالات پیش کئے گئے ہیں۔یہ کتاب اردو میں ہے اور مہتمم صاحب نشر و اشاعت نظارت اصلاح و ارشادر بوه ضلع جھنگ 30 66 پاکستان نے شائع کی ہے“۔نواب بہادر یار جنگ مرحوم پر معلومات افروز مقاله مسلمانان ہند کے ممتاز مسلم لیڈر قائد اعظم کے دست راست اور انجمن اتحادالمسلمین کے صدر نواب بہادر یار جنگ (ولادت ۱۹۰۵ ء وفات ۲۵ جون ۱۹۴۴ء) کے جماعت احمدیہ سے گہرے روابط و مراسم کا تذکرہ تاریخ احمدیت جلد نہم (صفحہ ۴۳ - ۴۹) میں گذر چکا ہے اس ضمن میں نواب صاحب کے سفر قادیان (مارچ ۱۹۴۰ء ) اور ان کے تاثرات بھی بتائے جاچکے ہیں۔اس سال مجلس اتحاد المسلمین کی مجلس عاملہ کے قدیم ترین احمدی رکن اور نواب بہادر یار جنگ کے سرگرم رفیق کا رسیٹھ محمد اعظم صاحب حیدر آبادی نے نواب صاحب مرحوم کی زندگی، سیرت نیز ان کی ملتی خدمات اور