تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 333 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 333

تاریخ احمدیت۔جلد 26 333 سال 1970ء تھا۔آپ ۸ دسمبر ۱۹۷۰ء کو سرائے فانی کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی جنتوں کی طرف پرواز کر گئے۔مورخہ ۹ دسمبر کو آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ میں ہوئی۔88 حکیم سراج دین صاحب بھائی دروازہ لاہور وفات: ۱۲ دسمبر ۱۹۷۰ء آپ لاہور کے قدیم اور مخلص غیور احمدی بزرگوں میں سے تھے۔بہت نیک، دعا گو خیر اور اپنے علاقہ میں دینی اور دنیوی دونوں لحاظ سے بڑے اثر و رسوخ کے مالک تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ میں بہت شفار رکھی تھی۔دور دور سے مریض آتے اور شفایاب ہو کر جاتے۔حضرت سیّدہ اُمّ طاہر صاحبہ کی آخری علالت میں بالخصوص خدمت کرنے کا موقعہ ملا جس پر حضرت مصلح موعود نے خوشنودی کا اظہار فرمایا۔حضرت مصلح موعود سے آپ کو بے حد عقیدت تھی۔بھائی دروازہ لاہور کے سیکرٹری امور عامہ بھی رہے۔آپ کو تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل ہونے کا بھی شرف حاصل تھا۔لیا 89 حضرت حکیم سید خلیل احمد صاحب مونگھیری وفات: ۱۳ دسمبر ۱۹۷۰ء آپ کے والد مولا نا واعظ علی صاحب مسلسل، غالب کے ہمعصر اور صاحب دیوان شاعر تھے۔آپ کی ولادت ۱۸۷۲ء میں ہوئی علم طب لکھنو سے حاصل کیا۔۶ - ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود کی خدمت اقدس میں بیعت کا خط لکھا مگر زیارت نہ کر سکے۔خلافت ثانیہ کے ابتدائی ایام ہی سے آپ فریضہ دعوت وارشاد میں سرگرم عمل ہو گئے اور اپنی پُر جوش تبلیغی مہمات کے سلسلہ میں بہار، بنگال ہی پی، یوپی، مدراس، میسور، بمبئی اور پنجاب میں پیغام حق پہنچایا۔جلسہ سالانہ قادیان کے فاضل مقررین میں سے تھے۔۱۹۵۱ء میں حضرت مصلح موعود کے حکم پر آپ ناظر تعلیم و تربیت قادیان کے عہدہ پر فائز ہوئے اور ۱۹۶۲ء تک یہ خدمت بجالاتے رہے بعد ازاں پاکستان تشریف لے آئے۔کراچی میں انتقال کیا اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں سپردخاک کئے گئے۔آپ کو حضرت خانصاحب ذوالفقار علی خاں صاحب سے دامادی کا شرف حاصل تھا۔تصانیف : مباحثہ مونگھیر ( حصہ اول۔دوم سوم )۔احسانات مسیح موعود میں سے کچھ۔اسرار