تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 328 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 328

تاریخ احمدیت۔جلد 26 82 328 سال 1970ء ہونے اور حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے بھانجا ہونے کا شرف حاصل تھا۔آپ ۱۹۶۷ء میں ملازمت سے ریٹائر ہوئے اور اس کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی زیر ہدایت مختار عام صدر انجمن احمد یہ پاکستان کی حیثیت سے زندگی کے آخری لمحات تک سلسلہ احمدیہ کی خدمات بجالاتے رہے اور اپنے دفتر میں ہی کام کرتے ہوئے حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کیا۔منشی غلام محمد صاحب آف ہجکہ تاریخ وفات : ۳ ۴۰ ستمبر ۱۹۷۰ء کی درمیانی شب آپ نہایت دعا گو اور صاحب کشف انسان تھے۔سونے سے قبل سورۃ الملک اور دیگر قرآنی سورتیں بڑی خوش الحانی سے تلاوت فرماتے تھے۔آپ بڑے پرانے اور مخلص احمدی موصی تھے۔آپ نے ۱۹۰۰ء میں ایک جلد ساز کے پاس آئینہ کمالات اسلام پڑی دیکھی۔آپ نے کتاب پڑھی تو اس کی عبارت آپ کو بہت اعلیٰ معلوم ہوئی اور دل سے احمدیت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کو مان لیا۔نیز یہی کتاب ایک امام مسجد حافظ عبدالہادی صاحب کو سنائی تو وہ بھی سن سن کر روتے تھے اور کہتے تھے کہ ایک دفعہ حضرت مرزا صاحب کی قادیان جا کر ضرور زیارت کرنی ہے۔چونکہ ان دنوں پیری مریدی پر زور تھا جس کو آپ پسند نہیں کرتے تھے اس لئے آپ نے بیعت نہ کی لیکن نمازیں احمدیوں کے ساتھ ہی ادا کرتے تھے۔بعض بزرگوں کے سمجھانے پر خلافت اولی کے زمانہ میں بیعت کی۔آپ عربی ، فارسی اور اردو کے بڑے عالم تھے اور اکثر عربی اور فارسی کے مقولے پڑھا کرتے تھے۔قرآن کریم سے خاص لگاؤ تھا۔جہاں سے بھی قرآن شریف کے پڑھنے کی آواز آتی وہاں جا کر قرآن کریم سننے کے لئے بیٹھ جاتے اور اکثر حفاظ سے قرآن کریم سنتے رہتے۔سارا سارا دن مطالعہ میں مصروف رہتے اور آخری چند سالوں میں تفسیر صغیر سارا دن پڑھتے رہتے۔نظر کی کمزوری کے باوجود تفسیر صغیر کا مطالعہ آخری دم تک نہ چھوڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کی اولاد کے ساتھ دلی لگاؤ اور محبت تھی۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر ربوہ تشریف لائے تو بس کے اترتے ہی کسی نے بتایا کہ کافی فاصلے پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب جا رہے ہیں۔ضعیف العمر ہونے کے باوجود وہاں سے دوڑ پڑے اور حضرت میاں صاحب سے مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔قادیان اور ربوہ میں تقریباً ہر جلسہ پر تشریف لاتے اور علماء سلسلہ کی تقاریرین کر لطف اٹھاتے تقسیم ملک سے قبل رمضان شریف کا مہینہ قادیان جا کر گذارتے چنانچہ تقسیم ملک کے وقت بھی رمضان شریف گذارنے کے لئے قادیان گئے