تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 329
تاریخ احمدیت۔جلد 26 329 سال 1970ء ہوئے تھے۔تحریک ملکانہ میں بھی حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ارشاد کے مطابق شریک ہوئے تھے۔وفات کے وقت اپنے گاؤں ہجکہ میں امائناً دفن کیا گیا۔اگلے سال وفات کی ہی تاریخوں میں آپ کا تابوت بروز جمعتہ المبارک ربوہ لایا گیا۔نماز جمعہ کے بعد مولانا نذیر احمد مبشر صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔83 ملک نا در خاں صاحب افسر مال کیمبل پور (اٹک) وفات: ۶ ستمبر ۱۹۷۰ء آپ کیمبل پور کے معزز احمدی شہری تھے۔احمدی اور غیر احمدی دونوں ہی مرحوم کی بہت عزت کرتے تھے۔اپنی زندگی کے آخری ایام میں آپ نے مسجد احمدیہ کی تعمیر اپنی نگرانی میں کروائی اور بہت جانی و مالی امداد اور قربانی کی۔آپ بیماری کی حالت میں بھی دن بھر مسجد کی تعمیر کی نگرانی کیلئے مسجد میں لیٹے یا بیٹھے رہتے تھے۔بہت زندہ دل اور مخیر انسان تھے۔سلسلہ کی خدمت و نگہبانی اور ہر فر د جماعت کی سلامتی کا پورا خیال رکھتے۔چندوں میں نمایاں حصہ لیتے۔احمدیت کے لئے مرحوم کے دل میں خاص جوش اور ولولہ تھا۔تن تنہا ہر شر اور فساد کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیشہ سینہ سپر رہتے تھے۔آپ کے بیٹوں میں سب سے بڑے بیٹے ملک منیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کیمبل پور ہیں۔چوہدری اللہ بخش صاحب وفات: ۲۰ ستمبر ۱۹۷۰ء 84 چوہدری اللہ بخش صاحب کے والد حضرت میاں رحمت اللہ صاحب آرا ئیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔آپ میں شروع سے ہی قرآن شریف سے لگاؤ اور احمدیت سے محبت کا جذ بہ پایا جاتا تھا۔خلافت سے والہانہ عشق و محبت رکھتے تھے۔آپ موصی تھے۔آپ شروع سے ہی ہر مرکزی تحریک میں حسب توفیق حصہ لیتے تھے۔تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔آپ اپنے خاندان کے بچوں کی تربیت واصلاح میں کوشاں رہتے تھے۔جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جب کبھی جماعت کی طرف سے کوئی خدمت آپ کے سپرد کی گئی ذاتی کاروبار چھوڑ کر اس خدمت کو سرانجام دیتے۔آپ غریبوں اور مسکینوں کی خدمت بھی حسب توفیق کرتے تھے اور مہمان