تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 324 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 324

تاریخ احمدیت۔جلد 26 324 سال 1970ء ہوں گی۔گھر میں ہی رہ کر علاج کرواؤں گی۔چنانچہ یہ منظور تھا کہ ڈاکٹر کو گھر بلانے کی جتنی فیس ہودی جائے مگر قال اللہ وقال الرسول کے برخلاف یہ برداشت نہیں کر سکتی تھیں کہ رشوت دے کر کوئی کام کروایا جائے۔آپ مورخہ ۲۱ جولائی ۱۹۷۰ء کو وفات پا گئیں۔مورخہ ۲۲ جولائی کو محترم قاضی محمد نذیر صاحب لائکپوری ناظر اصلاح وارشاد نے بعد از نماز صر نماز جنازہ پڑھائی اور قبر کی تیاری پر حضرت صوفی غلام محمد صاحب ایڈیشنل ناظر بیت المال نے دعا کروائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔چوہدری غلام احمد صاحب آف سعد اللہ پور ولادت: ۱۹۰۸ء وفات: ۲۳ جولائی ۱۹۷۰ء آپ ۱۹۰۸ء میں موضع سعد اللہ پور (ضلع گجرات حال ضلع منڈی بہاؤ الدین) کے ایک معزز زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ کے آباء واجداد اپنے زہد و تقویٰ کی بدولت اپنے گاؤں میں ممتاز تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ پر عام علماء کی طرح آپ کے والد حضرت مولوی غوث محمد صاحب نے بھی احمدیت کی مخالفت کی لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے ایک رویاء کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت آپ پر منکشف کی۔آپ نے قادیان جا کر حضور علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔واپس گاؤں پہنچے تو وہی لوگ جو آپ کے معتقد وشیدا تھے جانی دشمن بن گئے اور آپ سے قطع تعلق کر لیا۔مگر آپ کے صدق و استقلال میں ذرا لغزش نہ آئی۔حالانکہ اس علاقہ میں جوا کا دُ کا احمدی ہوتے وہ بعض اوقات مخالفت کے طوفان سے گھبرا کر اور مرکز کی محبت کی خاطر قادیان آباد ہو جاتے۔لیکن آپ نے مخالفت کے پہاڑ سے ٹکر لی تا کہ اس علاقہ میں احمدیت کا چشمہ پھوٹے۔مصائب اور تکالیف کے اس دور میں مولوی غوث محمد صاحب کے بیوی بچوں نے بھی کمال استقلال کا نمونہ دکھایا۔آپ کی پامردی جلد ہی رنگ لائی اور گاؤں کے چند ذی اثر آدمی آپ کے ذریعہ احمدی ہوگئے۔چوہدری غلام احمد صاحب مرحوم نے اپنے والد کی روحانی قوت برداشت واستقلال سے وافر حصہ پایا تھا۔آپ شروع ہی سے احکام شرعی کے پابند اور احمدیت کے داعی تھے۔آپ گونا گوں خوبیوں کے مالک تھے۔ان میں سے دو باتیں شروع سے ہی آپ میں منفر د تھیں یعنی گالی گلوچ اور جھوٹ سے پر ہیز۔آپ کے بچوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ آپ نے نہ تو کبھی غصہ میں اور نہ ہی کبھی پیار سے کوئی نازیبا لفظ منہ سے نکالا۔