تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 314 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 314

تاریخ احمدیت۔جلد 26 314 سال 1970 ء اپنے شوہر کی وفات (۳۰ /اکتوبر ۱۹۴۱ء) کے دو سال بعد آپ نے ہفت روزہ اخبار دستکاری 52 از سرنو جاری کر کے مسلم خواتین کے حقوق کے بارے میں پُر زور آواز بلند کرنا شروع کی۔۱۰مئی ۱۹۴۲ء کو لجنہ اماءاللہ دہلی کا جلسہ سالانہ آپ کی زیر صدارت ہوا۔مارچ ۱۹۵۴ء میں اخبار ” الفضل“ سے مارشل لاء کی پابندی ختم ہوئی تو لاہور کے ہر پریس نے اسے چھاپنے سے انکار کر دیا تو آپ کی غیرت و جرأت ایمانی سے یہ مسئلہ حل ہوا اور جماعت کا یہ ترجمان آپ کے پریس میں طبع ہونے لگا۔آپ کو ۱۹۶۷ء تک لاہور کی لجنہ اماءاللہ انارکلی و نیلا گنبد کی صدارت کے فرائض کامیابی سے بجا لانے کی سعادت ملی۔سلسلہ احمدیہ اور مسلم انڈیا دونوں کی تاریخ میں منفر دصحافی خاتون تھیں جو متحدہ ہندوستان اور پھر پاکستان میں مسلم خواتین کی قریباً تمیں سال تک بے لوث خدمات بجالاتی رہیں۔آپ سیاسی حلقوں میں بیگم شفیع کے نام سے ایک جانی پہچانی شخصیت تھیں۔آل انڈیا مسلم لیگ کے شعبہ خواتین کا اضافہ ہوا تو قائد اعظم محمد علی جناح ( ولادت ۲۵ دسمبر ۱۸۷۶ء وفات استمبر ۱۹۴۸ء) نے مسلم لیگ بیلما راں دہلی کے شعبہ خواتین کا نگران آپ کو مقرر فرمایا۔شملہ کانفرنس ( وائسرے گل لاج۔۲۵ جون تا ۲۷ جون ۱۹۴۵ء) میں پریس انفارمیشن بیورو کی طرف سے آپ کو خاتون نامہ نگار کے کاغذات اسناد دیئے گئے۔برطانوی ہند کی تاریخ میں ۴۶-۱۹۴۵ء کے مرکزی اور صوبائی انتخابات کو فیصلہ کن اور غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں مسلم لیگ کو واضح فتح حاصل ہوئی اور قیام پاکستان کی منزل یقینی نظر آنے لگی۔ان انتخابات میں جہاں پورے ملک کی احمدی خواتین نے آل انڈیا مسلم لیگ کو کامیاب کرنے کی بھر پور مساعی کیں وہیں آپ نے بھی اپنے اخبار ” دستکاری اور اپنی مسلم لیگی کارکنات کے ذریعہ اس مہم میں پُر جوش حصہ لیا۔قیام پاکستان کے بعد آپ نے کل پاکستان انجمن مہاجر خواتین کے صدر کی حیثیت سے بیش بہا خدمات انجام دیں۔آپ مسلمان رضا کا رسوشل خواتین کے ایک وفد کے ساتھ مشرقی پنجاب میں مسلمان لڑکیوں کی بازیابی کے لئے بھی تشریف لے گئیں۔سینکڑوں لڑکیاں آپ کی کوشش سے برآمد کی گئیں اور سینکڑوں کی بازیابی میں آپ کا تعاون شامل تھا۔اس عظیم کارنامہ پر گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر (۱۸۹۹ - ۱۹۵۸ء) نے آپ کو سند خوشنودی سے نوازا۔