تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 313 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 313

تاریخ احمدیت۔جلد 26 313 سال 1970ء 50 خان بہادر ڈپٹی غلام نبی صاحب رئیس میرٹھ ایکسٹرا اسٹنٹ کمشنر کی پوتی تھیں۔۱۹۱۴ء میں صحابی حضرت ڈاکٹر سید شفیع احمد صاحب محقق دہلوی سے بیاہی گئیں اور انہی کے پاک نمونہ اور مؤثر تبلیغ کی بدولت نعمت احمدیت نصیب ہوئی جس کے بعد آپ پُر جوش داعیہ الی اللہ بن گئیں۔دہلی میں ۱۸ را پریل ۱۹۲۷ء کو لجنہ اماء اللہ کا قیام عمل میں آیا تو آپ کو سیکرٹری مال کا عہدہ سونپا گیا۔آپ حضرت مصلح موعود کی ۱۹۲۸ء کی تحریک جلسہ ہائے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں ۱۹۴۶ ء تک جلسوں کا دہلی میں خصوصی اہتمام فرماتی رہیں۔یہ جلسے سینٹ فرانس گرلز ہائی سکول دریا گنج میں منعقد ہوتے تھے۔ان جلسوں کی صدارت مسز آصف علی، مسٹر کھرے اور بلبل ہند مسز سروجنی نائیڈ و وغیرہ با اثر خواتین نے کی۔مکرمہ سیدہ نیم سعید صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ بیگم شفیع کا مسلم لیگ سے ۱۹۳۸ء سے قریبی تعلق تھا کیونکہ ڈاکٹر سید شفیع احمد کے قریبی دوست مسلم لیگ کے آفس سیکرٹری سید شمس الحسن تھے۔بیلماراں عابد منزل میں ڈاکٹر سید شفیع احمد کا گھر تیسری منزل پر تھا۔دوسری منزل میں مختلف دفاتر تھے وہاں ایک دفتر خالی ہوا تو ڈاکٹر سید شفیع احمد نے اپنے دوست سید شمس الحسن صاحب سے کہا کہ قائد اعظم مسلم لیگ کے لئے ایک دفتر چاہتے ہیں آپ فوراً اس دفتر میں آجائیں (اس سے پہلے مسلم لیگ کا کوئی با قاعدہ دفتر نہیں تھا مختلف بڑے لوگوں کے گھر میٹنگ ہوتی تھی ) چنانچہ یہ دفتر فورا لے لیا گیا۔بیگم شفیع صاحبہ چائے اور پان بنا کر نیچے دفتر میں نوکر کے ذریعہ بھجوادیتیں۔کئی دفعہ مسلم لیگ کا فنڈ ختم ہو جاتا۔دفتر کا کرایہ دینے کے لئے رقم نہ ہوتی اور مالک مکان تقاضا کرتا تو ڈاکٹر سید شفیع احمد گھر میں پیغام بھیجتے کہ اتنی رقم بھیج دیں۔سیکرٹری صاحب فنڈ جمع ہونے پر یہ رقم واپس کر دیتے۔ایک دفعہ میرے بھائی ، والد صاحب کے ساتھ مسلم لیگ کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک ہند و قرقی لے آیا۔ہوا یہ کہ مسلم لیگ کے ایک اجلاس عام کے لئے ایک ہندو ٹھیکیدار سے قناتیں ، چھولداریاں اور فرنیچر منگوایا تھا۔کچھ عرصہ تقاضے کے باوجود وہ بل کی وصولی نہ کر سکا چنانچہ دہلی کی دیوانی عدالت سے قرقی لے آیا۔اس نے سیکرٹری صاحب کو قرقی دکھائی۔سید شمس الحسن صاحب کے پاس ادائیگی کے لئے کوئی رقم ب تھی۔چنانچہ ٹھیکیدار نے دفتری سامان اٹھانا شروع کر دیا۔یہ دیکھ کر ڈاکٹر سید شفیع احمد نے اسے روکا اور فوراً اپنے گھر پیغام بھجوایا۔بیگم شفیع نے مطلوبہ رقم بھیجی جس سے فرنیچر والے کا بل ادا کیا کیا۔51