تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 312
تاریخ احمدیت۔جلد 26 312 سال 1970ء علیہ السلام اور حضرت خلیفہ مسیح الاول کے آپ کی کمر پر دست شفقت پھیرنے کا ذکر کر کے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حضور بھی اپنا دست مبارک آپ کی پشت پر پھیریں تا کہ آپ بجا طور پر فخر کر سکیں کہ تین پیشوائوں کا دست شفقت آپ پر پھرا ہوا ہے۔چند دنوں کے بعد ایک رات بذریعہ خواب حضرت خلیفہ اسیح الثانی آپ کو ملے اور بڑی دیر تک حضور اپنا دست مبارک آپ کی کمر پر پھیر تے رہے۔چنانچہ صبح ہی آپ نے حضور کی خدمت اقدس میں اطلاع دے دی۔آپ نہایت دیندار، متقی، پرہیز گار اور ایک متوکل انسان تھے۔والد صاحب کا سایہ جلد سر سے اٹھ گیا لیکن آپ نے اپنی والدہ اور بھائیوں کی خوب خدمت کی۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور شہدائے سلسلہ کیلئے خاص دعائیں کیا کرتے تھے اور دوسروں کو تلقین بھی کرتے تھے۔چندہ کی ادا ئیگی کیلئے خاص طور پر اولا د کو تحریک کیا کرتے تھے۔آپ جوانی کے ایام میں سیکرٹری تعلیم تھے۔کئی دیہات میں جلسے کرواتے تھے۔ایک دفعہ حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب گجرات تشریف لائے تو آپ کے جوش و ولولہ خدمت کو دیکھ کر فرمایا ” ہمیں ایسے ہی جوانوں کی ضرورت ہے“۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کو اپنے گھر پر ٹھہرانے کا شرف حاصل کرتے تھے۔خود بھی دعائیں کرتے اور ان سے بھی کرواتے تھے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی آخری سخت علالت کا اعلان جب ریڈیو پر ہوا تو آپ نے عشاء کی نماز میں حضور کی صحت یابی کے لئے کثرت سے دعا فرمائی۔صبح اہل خانہ کو فرمانے لگے کہ جب میں رکوع میں گیا تو ایک سیکنڈ کے لئے میرا تعلق اس دنیا سے منقطع ہو گیا اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی شبیہہ مبارک میرے سامنے آگئی۔میں نے اپنے آپ کو جھنجھوڑا تو دوسرے رکوع میں پھر وہی نظارہ دیکھا اور اپنے گھر والوں کو بتایا کہ اب خلیفہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ہوں گے۔اور اپنے ایک دوست چوہدری علی احمد آف گلانوالہ کو بھی آپ نے اپنی یہ خواب سنادی۔آپ دل کی تکلیف میں مبتلا تھے۔۱۲ جون ۱۹۷۰ ء کو آپ کی وفات ہوئی۔۱۳ جون کو آپ کا جنازہ ربوہ لایا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے آپ کا جنازہ پڑھایا اور بہشتی مقبرہ ربوہ قطعہ صحابہ میں تدفین عمل میں آئی۔بعد تد فین مکرم کیپٹن محمد سعید صاحب نے دعا کرائی۔48 قریشہ سلطانہ بیگم صاحبہ بیگم الحاج حضرت ڈاکٹر سید شفیع احمد صاحب محقق دہلوی وفات : ۱۲ جون ۱۹۷۰ء بعمر ۷۲ سال 9