تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 311
تاریخ احمدیت۔جلد 26 311 سال 1970ء ادا کیا۔تمام گاؤں میں ایک پر وقار اور معزز شخصیت تصور کئے جاتے تھے۔غرباء پروری اور مسکین نوازی ان کا طرہ امتیاز تھا۔اپنی زندگی میں ہی اپنی جائیداد کا حساب کر کے ۹/ا حصہ وصیت ادا کر دیا۔تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج میں بھی شامل تھے۔آپ کی تدفین ۴ جون کو بہشتی مقبرہ ربوہ میں عمل میں آئی۔آپ نے اپنے پیچھے چارلڑکیاں اور چار لڑکے چھوڑے۔دو بیٹے چوہدری ناصر احمد صاحب سینئر اوور ہالنگ انجینئر کراچی اور منصور احمد صاحب گوجرانوالہ اور ایک بیٹے منور احمد انگلستان میں مقیم ہیں۔17 حضرت شیخ عبدالغفور صاحب مرحوم آف گجرات ولادت : کیم جون ۱۹۰۱ء وفات : ۱۲ جون ۱۹۷۰ء آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے پیدائشی احمدی تھے۔آپ کے والد صاحب حضرت رحیم بخش صاحب اور دادا حضرت شیخ الہی بخش صاحب مالک فرم قدیمی کتب خانہ آف گجرات دونوں ہی بیک وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی جماعت احمدیہ میں شامل ہو گئے تھے۔آپ کی انتھک کوششوں کے طفیل ضلع گجرات کے کئی دیہات میں احمدیت کا نور پہنچا۔حضرت شیخ عبدالغفور صاحب اپنے دادا جان کے ہمراہ ۱۹۰۶ء میں قادیان پہنچے۔حضور علیہ السلام سے آپ نے مصافحہ کا شرف حاصل کیا اور حضور علیہ السلام کی خدمت میں نذرانہ بھی پیش کیا جو آپ نے قبول فرمالیا اور آپ کی پشت پر اپنا دست مبارک بھی پھیرا ۱۹۱۲ء میں حصول تعلیم کی غرض سے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کی چھٹی جماعت میں داخل ہوئے اور حضرت خلیفہ المسیح الاول کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضور کی خدمت میں اس شخص نے جو آپ کو اپنے ہمراہ لے کر گیا تھا ایک رقعہ پیش کیا جو آپ کے والد صاحب نے حضور کی خدمت میں لکھا تھا۔حضور نے رقعہ پڑھ کر دریافت فرمایا لڑکا کہاں ہے۔ان صاحب نے آپ کی طرف اشارہ کر دیا تو آپ نے کمال محبت سے اپنا دست مبارک لمبا کر کے آپ کو اپنی طرف کھینچا اور دیر تک آپ کی کمر پر دست شفقت پھیرتے رہے۔آپ کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے بھی نہایت درجہ محبت تھی۔اکثر حضور کو جبکہ حضور نماز سے فارغ ہو کر محراب میں تشریف رکھتے تو آپ پیچھے بیٹھ کر پشت مبارک کو دبایا کرتے تھے۔آخر یہاں تک محبت نے ترقی کی کہ آپ نے حضور کی خدمت اقدس میں ایک خط لکھا۔جس میں حضرت مسیح موعود