تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 309
تاریخ احمدیت۔جلد 26 309 سال 1970ء کہی جس کو حق جانا اور قرآن وحدیث کی رو سے درست گردانا اور پھر اس پر ڈٹ گئے۔قرآن کریم کی تلاوت بلا ناغہ فرماتے رہے۔تفسیر صغیر کے شروع میں خاص خاص حوالے نوٹ فرماتے جاتے تھے۔جو آج بھی ہمارے پاس ان کے ذکر کا موجب ہیں۔آپ ایک تہجد گزار بزرگ تھے۔راتوں کو اکثر خدا کے حضور گھنٹوں کھڑے رہتے اور احمدیت کے فروغ اور اولاد کی ترقی و خوشحالی کے لئے دعائیں فرماتے۔آپ نہ صرف عبادت گذار بزرگ تھے بلکہ نظام سلسلہ کے سخت پابند تھے۔کئی دفعہ سائیکل پر ربوہ جلسہ میں شرکت کیلئے گئے۔اپنے امام کے حکم کے منتظر رہتے۔جب آپ نے قادیان سے ہجرت کر کے گوجرانوالہ شہر میں عارضی طور پر قیام کیا پھر فیصل آباد تبدیلی ہونے پر وہاں منتقل ہو گئے۔آپ کی تبدیلی ایمپلائمنٹ ایکسچینج میں ہوگئی۔۱۹۲۳ء میں جب شدھی کا ریلہ آیا اور جس میں بڑے بڑے سورماؤں کے قدم لڑکھڑا گئے تو اس وقت حضرت مصلح موعود نے اس چیلنج کا منہ توڑ جواب دیا۔اور آپ کی ایک آواز پر جو ہزاروں مجاہدین احمدیت میدانِ کارزار میں کود پڑے۔محترم ابا جان بھی انہی میں سے ایک تھے۔حضرت امیر جماعت احمد یہ ضلع فیصل آباد شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں:۔45 ایک زمانے میں یعنی ۱۹۲۳ء میں مجھے آپ کے والد صاحب مرحوم کے ساتھ شدھی کے علاقے میں کام کرنے کا اتفاق ہوا۔وہ بہت مخلص تھے۔محترم محمد شفیع اسلم صاحب مرحوم ( خاکسار کے تایا جان۔ناقل ) اور آپ کے والد صاحب اکٹھے شدھی کے علاقے میں کام کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان دونوں کی روایات کے مطابق چلنے کی آپ کو توفیق دے اور آپ کا کارساز ہو۔آمین سلسلہ سے والہانہ لگاؤ، امام کی آواز پر لبیک اور اپنا تن من دھن لٹانے کے لئے تیار رہنا۔تحریک احمدیت کی جزئیات سب انہوں نے اپنی اولاد میں منتقل کر دیں۔آپ ایک صاحب رؤیا و کشوف بزرگ تھے۔مسجد احمد یہ گوکھووال میں ایک عرصہ تک اعتکاف فرماتے رہے۔مقبول الدعا تھے۔خواب کی تعبیر خوب فرماتے۔آپ کی روحانیت آپ کے کردار سے ہو یدا تھی۔باوجود افلاس و مفلسی کے گاؤں میں سب لوگ آپ کی عزت کرتے۔خودداری، وضع داری اور شرافت کا پیکر تھے۔احمدی غیر احمدی سب آپ سے دعا کی درخواست کرتے اور فیض یاب ہوتے۔اکثر گھرانوں کی دائمی رنجشیں آپ کی دعاؤں سے ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئیں۔اولاد سے محروم