تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 308 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 308

تاریخ احمدیت۔جلد 26 مولوی مسیح الدین خان صاحب وفات: ۶مئی ۱۹۷۰ء 308 سال 1970ء آپ حافظ نور محمد صاحب مرید حضرت پیر کوٹھہ شریف سید امیر کے فرزند اکبر تھے۔۱۹۱۰ء میں حضرت فرزند علی خاں صاحب کے ذریعہ فیروز پور میں احمدیت قبول کی۔زندگی کا بیشتر حصہ خیبر ایجنسی اور کرم ایجنسی میں گزارا جہاں آپ ٹیچر اور عرضی نویسی کے فرائض انجام دیتے رہے۔عالم باعمل اور دعا گو بزرگ تھے۔پیغام حق پہنچانے کا بڑا شوق تھا۔آپ کے چھوٹے بھائی خان شمس الدین خان صاحب (امیر جماعت احمدیہ پشاور ) آپ ہی کے زیر اثر سلسلہ کی کتب کا مطالعہ کر کے ۱۹۲۷ء میں داخل احمدیت ہوئے۔عبدالرشید غوری صاحب آف گوکھو وال وفات: ۷امئی ۱۹۷۰ء مکرم ناصر رشید فاروقی صاحب اپنے والد صاحب کے متعلق لکھتے ہیں:۔آپ نے حضرت مصلح موعود کے دور میں اپنے بڑے بھائی ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم ( مرحوم ) سے دوسال بعد بیعت کی۔آپ اپنی والدہ محترمہ رحمت بی بی صاحبہ اور بڑے بھائی سمیت گھر بدر کر دیئے گئے۔مگر آپ نے احمدیت کی دولت بے بہا لے کر دنیا میں مفلسی اور تنگدستی کو نہایت خندہ پیشانی سے قبول کر لیا۔اُن دنوں میں آپ کی عمر صرف ۷ اسال تھی۔اپنی والدہ سے بہت محبت کرتے۔والد بچپن میں فوت ہوچکے تھے۔تایا جان ان کو تعلیم کی تکمیل کے لئے ترغیب دیتے۔لیکن ابا جان بیمار اور متفکر ماں کے دامن سے لیٹے رہتے۔ان کی خدمت کو ہی زندگی کا نصب العین جانا۔یہاں تک کہ مروجہ دنیاوی تعلیم بھی حاصل نہ کر سکے۔میلوں ٹھیلوں کے رسیا ہوئے۔ڈھول تماشے دیکھتے اور دوسرے نوجوانوں کی طرح مذہب سے دور ہو گئے مگر جونہی احمدیت کی گھنی چھاؤں میں آئے تو کایا ہی پلٹ گئی۔اپنی والدہ محترمہ کے ہمراہ قادیان کی مبارک بستی میں تشریف لے گئے۔حضرت مصلح موعود کی صحبت میں رہے اور پارس ہو گئے۔ہر قسم کی دنیاوی لذتوں کو خیر باد کہ دیا۔پانچ وقت کی نماز شروع کی اور زندگی کے آخری سانسوں تک ادا کرتے رہے۔ہر طرح کی دنیاوی مصلحتوں کو ترک کیا اور وہی بات