تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 307 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 307

تاریخ احمدیت۔جلد 26 307 سال 1970ء 42 دیتے رہے۔آپ نے درویشی کا ابتدائی زمانہ بڑے صبر و استقلال اور خندہ پیشانی سے گزارا۔آپ نے ۱۹۷۰ء میں بعمر ۸۰ سال وفات پائی۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی۔خواجہ ظہور الدین صاحب بٹ آف گوجر خاں (راولپنڈی) تاریخ وفات : ۲ مئی ۱۹۷۰ء آپ مکرم میجر منیر احمد شہید (۱۹۶۵ء) کے سر تھے۔محترم خواجہ صاحب خدام سلسلہ کے لئے خصوصاً بہت مہمان نواز شخصیت تھے۔کتب سلسلہ احمدیہ کے عالم اور اپنے حلقہ اثر میں پیغام حق پہنچانے میں مصروف رہتے تھے۔مرکز سے کتب اور رسالے منگوا کر صدہا کی تعداد میں تقسیم کرواتے۔محترم خواجہ صاحب با وجود ضعف اور عوارض کے مغرب اور صبح کی نمازوں میں مع اپنے عزیز پوتوں اور نواسوں کے مسجد میں آکر باجماعت نماز پڑھتے تھے۔وقف عارضی کے سلسلہ میں جو احباب تشریف لاتے رہے ان سے خدام کے علاوہ خواتین کو بھی ترجمہ قرآن مجید پڑھانے کا انتظام کیا۔اپنی جماعت کے مردوں اور خواتین کی طرف چندوں کا بقایا نہ رہنے دیتے تھے۔اپنی بیگم صاحبہ کو بھی تربیت دی ہوئی تھی۔جو کہ باقاعدگی سے ہفتہ وار خواتین کا اجلاس کرتیں اور چندے جمع کر کے مرکز میں بھجوا تیں۔ایک بار قریبی گاؤں سے ایک مخلص احمدی نوجوان جس کو والدین نے گھر سے نکالا ہوا تھا اپنی شادی کے سلسلہ میں امداد کے لئے آیا تو خواجہ صاحب نے خود بھی اس کی امداد کی اور جماعت سے بھی کافی امداد کروائی۔اس کے علاوہ اور بھی کئی احباب امداد حاصل کرنے کے لئے آتے مگر آپ کسی کو خالی واپس نہ کرتے۔محتر می خواجہ صاحب کی طبیعت بہت نرم اور حلیم تھی۔جماعت کے احباب آپ کی ہر ایک تحریک اور حکم کو خوشی سے مانتے تھے۔وکلاء آپ کو دیوانی کا قابل وکیل جانتے تھے۔ہر جمعہ کو تمام جماعت کو بٹھا کر نماز کا ترجمہ باری باری سنتے اور غلطیوں کی اصلاح کرتے پھر کسی ایک تربیتی مضمون پر تقریر بھی کرتے۔آپ کی ان سرگرمیوں سے آپ کے تبلیغی جوش کا بھی پتہ چلتا ہے۔خدام اور اطفال کی دینی تعلیم کا امتحان لیتے قابل اطفال کو انعام دلاتے تا کہ حوصلہ افزائی ہو۔ان امتحانوں میں اپنے پوتوں اور نواسوں کو بھی برابر شامل رکھتے۔اپنے عزیز داماد میجر منیر صاحب کی شہادت پر خود بھی صبر کا عمدہ نمونہ دکھایا اور اپنی بیٹی کو بھی ہمت دلاتے رہے۔وفات سے دو سال قبل آپ کو وصیت کرنے کی بھی توفیق ملی۔