تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 297 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 297

تاریخ احمدیت۔جلد 26 297 سال 1970ء اسلامی نماز کو ایک بدعت خیال کرتے ہیں اور اس کی بجائے اپنی مخصوص قسم کی عبادت پر عامل ہوتے ہیں۔مگر بچپن میں آپ کو ایک ایسی نماز اور دیگر اسلامی ارکان کی دلدادہ خاتون کی صحبت حاصل ہوئی کہ وہ باوجود ماں باپ کی مخالفت کے خود نماز پنجوقتہ کی گرویدہ ہو گئیں۔آپ کی اس عادت کو چھڑانے کے لئے آپ کے والد صاحب نے ایک ایسے خاندان میں نہایت کم عمری میں ہی آپ کی شادی کر دی جس کے بارہ میں ان کو یہ امید تھی کہ نماز کی محبت کو ان کے دل سے نکال سکیں گے۔مگر تقدیر الہی کا یہ انو کھا کرشمہ ہوا کہ آپ کے شوہر محترم سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب بھی بعد میں نماز پنجوقتہ کے علاوہ نماز تسبیح اور کثرت نوافل و تجد میں پوری طرح مستغرق ہو گئے۔اپنے محترم شوہر کی طرح آپ کو بھی تبلیغ احمدیت کی ہر وقت دھن لگی رہتی تھی۔بلا تکلف ہر قسم کی مجالس اور صحبتوں میں احمدیت کا ذکر و چرچا کرتیں۔آپ کی شخصیت میں اتنا جذب اور انداز گفتگو میں اتنا اخلاص تھا کہ جو کوئی ایک دفعہ مختصرسی مدت کے لئے بھی آپ سے ملتا آپ کا گرویدہ ہو جاتا۔نہایت خلیق و شفیق اور ہمدردو فیاض اور حاجت مندوں کی حسب مقدرت امداد کرنے والی اور دین کی خدمت اور احمدیت کی اشاعت کے لئے ہر دم جستجو کرنے والی تھیں۔آپ اپنے خاندان میں مٹھی ماں کے نام سے پکاری جاتی تھیں۔آپ کی ایک ممتاز خصوصیت مهمان نوازی تھی۔محترم سیٹھ صاحب کے دوستوں کی بڑے انہماک سے مہمان نوازی کرتیں۔جمعہ کے دن تو یہ معمول تھا کہ مہمانوں کے کھانا کھانے کے بعد ہی گھر والے خود کھاتے۔چائے کا وقت ہوتا تو چائے بھیجوا نہیں۔آپ ہر ایک کے دکھ درد میں شامل ہونا فرض عین سمجھتیں۔دوسروں کی خوشی کو اپنی خوشی اور دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتیں۔ہر ایک سے خوش خلقی اور خندہ پیشانی سے ملتیں۔طبیعت میں بڑی خاکساری تھی۔خدا تعالیٰ نے ظاہری دولت سے بھی نوازا تھا لیکن اس کی وجہ سے دل میں کبر و غرور نام کو نہ تھا۔خدا نے جو کچھ دیا تھا اس کو دین کی اشاعت اور بنی نوع انسان کی بہبود پر صرف کرنا میاں بیوی دونوں کو بہت مرغوب تھا۔آپ کے شوہر مکرم سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب عبادت گزار اور خدا کی یاد میں محور ہنے والے تھے اسی طرح آپ بھی بڑی عبادت گزار خاتون تھیں۔ہمیشہ دست با کار دل با یار والا معاملہ تھا۔ہر کام میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی پیش نظر رہتی۔خدا نے بڑا پاکیزہ دل دیا ہوا تھا۔بدظنی نام کو نہ تھی۔دعاؤں میں شغف تھا۔ہر ایک کے لئے توجہ اور ذوق شوق سے دعائیں کرتیں۔آپ نے اپنے بہنوئی مکرم حبیب اللہ خان صاحب کی شادی خود ہی کروائی کیونکہ آپ