تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 290
تاریخ احمدیت۔جلد 26 290 سال 1970ء صاحب اور مکرم عبدالحمید خاں صاحب کو احمدیت کی نعمت ملی۔تاہم ان کے والد مکرم چوہدری رحمت خاں صاحب کو بیعت کی توفیق نہ ملی۔آپ کے اکلوتے بیٹے مکرم چوہدری غلام اللہ خاں صاحب ( پیدائش ۱۹۰۹ء) کی روایت ہے کہ محترم والد صاحب نے بتایا کہ جب مکرم عبدالکریم صاحب آف حیدر آباد دکن کو ۱۹۰۷ء میں قادیان میں کتے نے کاٹ لیا تھا اور انہیں علاج کے لئے بورڈنگ ہاؤس سے الگ ایک کمرہ میں رکھا گیا۔اس موقع پر مجھے بھی چند دن ڈیوٹی دینے کا موقع ملا۔حضرت چوہدری غلام محمد خاں صاحب بعد میں بسلسلہ ملازمت لا ہور تشریف لے گئے اور ایک لمبا عرصہ سنٹرل ماڈل سکول لاہور میں کام کیا۔قیام پاکستان سے قبل بہت سے احمدی احباب روزگار کے سلسلہ میں لاہور آتے رہے آپ ان کو روزگار حاصل کرنے میں حتی المقدور تعاون کرتے رہے۔قیام پاکستان کے وقت آپ نے سکول کے پرنسپل صاحب سے خصوصی اجازت حاصل کر لی کہ ہندوستان سے آنے والے مہاجرین چھٹیوں کے ایام میں سکول میں رہ سکیں۔اس سہولت سے بہت سے احمدی احباب نے استفادہ کیا۔آپ کو طب کے شعبہ سے بھی شغف تھا۔اس لئے عام ضرورت کی دیسی جڑی بوٹیوں سے تیار شدہ ادویات اپنے پاس رکھتے تھے اور غرباء کو مفت تقسیم کرتے تھے۔آپ جوانی سے ہی عبادت گزار اور سلسلہ کی کوئی نہ کوئی کتاب اپنے پاس رکھتے اور اس کا مطالعہ کرتے تھے بلکہ بعض کتب آپ کے سرہانے کی طرف الماری میں ہوتی تھیں جو ہاتھ کی پہنچ میں ہوتی تھیں۔قیام پاکستان کے بعد آپ کو زرعی زمین ہر پر ضلع ساہیوال میں الاٹ ہوئی۔وہاں کچھ عرصہ مقیم رہنے کے بعد ر بوہ تشریف لے آئے اور اپنے بیٹے مکرم چوہدری غلام اللہ خاں صاحب کے پاس مقیم ہوئے۔ان کا گھر مسجد ناصر محلہ دار الرحمت غربی کے سامنے محراب کی طرف تھا۔آپ خود بھی بروقت نماز کے لئے تشریف لے جاتے اور اپنے پوتوں کو بھی تلقین فرماتے۔قیام ربوہ کے دوران اپنے عزیز واقارب کی خیر خیریت معلوم کرنے کے لئے جاتے اور خاص طور پر بیمار کی عیادت اپنے پر فرض کر لیتے اور باوجود بڑی عمر کے دور دراز محلوں میں بھی جاتے رہتے۔جلسہ سالانہ اور اجتماعات میں شرکت فرماتے اور تمام دن انہماک سے پروگرام سنتے۔آخری تقریب جس میں آپ کو شرکت کا موقع ملاوہ انصار اللہ مرکزیہ کا سالانہ اجتماع ۱۹۷۰ء تھا۔آپ درمیانے دن ہونے والی دعوت میں بھی شریک