تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 285 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 285

تاریخ احمدیت۔جلد 26 285 سال 1970 ء صحیح نمونہ تھے۔دست در کار و دل بایار کی ایک بہترین مثال تھے۔12 اولاد: ڈاکٹر حافظ مسعود احمد صاحب (سرگودها)، و دو داحمد صاحب ( مقیم لندن ) ، آمنه خاتون صاحبہ، فاطمہ خاتون صاحبہ ، صالحہ خاتون صاحبه، صفیه خاتون صاحبه، سعیده خاتون صاحبه آپ کی اہلیہ اور آپ کی سب اولاد تحریک جدید کے پانچہزاری مجاہدین میں شامل ہے۔حضرت ملک شادے خان صاحب پیدائش: ۱۸۸۰ء دستی بیعت : ۱۹۰۴ء 13 وفات : اا جولائی ۱۹۷۰ء آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور ہجرت سے قبل محلہ دارالرحمت قادیان میں رہائش پذیر تھے۔آپ اپنی بیعت کا واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں: میں ایک دفعہ میاں جمال الدین مرحوم کے ساتھ قادیان میں آیا۔اور مسجد مبارک میں جب ہم آئے تو نماز ظہر کا وقت تھا۔تو حضرت صاحب نماز کے لئے جب تشریف لائے تو میں نے حضرت صاحب سے مصافحہ کیا۔میرے کانوں میں مرکیاں پڑی ہوئی تھیں۔تو حضور نے فرمایا کہ یہ مرکیاں کیسی ہیں۔مسلمان تو نہیں ڈالتے۔میاں جمال الدین نے کہا حضور دیہاتی لوگ ایسے ہوتے ہیں۔کیونکہ ایسے مسائل سے کچھ خبر نہیں ہوتی۔فرمایا۔ان کو کانوں سے اتار دو۔تو میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے بھی کہا کہ جلدی اتار دو۔کیونکہ حضرت صاحب نے حکم فرمایا ہے۔میں نے اُسی وقت اتار دیں۔جب نماز عصر کے وقت نماز پڑھنے کے لئے آیا تو حضور نے فرمایا کہ اب مسلمان معلوم ہوتا ہے۔اُس کے بعد میں نے بیعت کر لی۔آپ ا جولائی ۱۹۷۰ ء کو سیالکوٹ شہر میں وفات پاگئے۔اسی دن شام کو بذریعہ ٹرک نعش کو ربوہ پہنچایا گیا۔مورخہ ۱۲ جولائی کو بعد از نماز فجر مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے نماز جنازہ پڑھائی اور قطعہ صحابہ میں آپ کو سپردخاک کیا گیا۔قبر تیار ہونے پر مکرم مولانا نے ہی دعا کروائی۔اولاد: عبد الحمید صابر بھٹی صاحب، عبد الرشید بھٹی صاحب،عبد العزیز بھٹی صاحب، عبد 14 اللطیف بھٹی صاحب، صفیه بی بی صاحبہ، شریابی بی صاحبہ نسیم اختر صاحبه حضرت صابرہ بی بی صاحبہ پیدائش: ۱۸۸۶ء بیعت : ۱۹۰۵ء16 وفات: ۱۷ جولائی ۱۹۷۰ء 15