تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 284
تاریخ احمدیت۔جلد 26 284 سال 1970ء تھیں۔نتیجہ یہ تھا کہ قادیان کے اکثر لوگ اسی شفاخانہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ہندو اور سکھ بھی بکثرت آتے تھے۔دیہات سے آنے والے مردوں اور عورتوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ان کی دکان بڑے بازار کے شمال میں ریتی چھلہ کے پاس آخری دکان تھی۔جب ادھر سے گذر ہوتا تو متعد دلوگ انتظار میں بیٹھے نظر آتے۔اور یہ بھی دکھائی دیتا کہ حضرت بھائی صاحب اور ان کے متعدد کارکن نہایت مستعدی سے نسخے لکھنے اور دوائیں تیار کرنے میں منہمک ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفاء بھی رکھی تھی۔حضرت بھائی صاحب امیروں اور غریبوں کی طرف یکساں توجہ دیتے تھے بلکہ میں اپنے تجربہ کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ ان کی توجہ غریبوں اور بالخصوص بوڑھی اور دیہاتی عورتوں کے علاج کی طرف خاص طور پر زیادہ ہوتی تھی۔دیہات میں جا کر بھی مریضوں کو دیکھتے تھے۔سارے علاقہ میں ان کی نیک شہرت تھی۔ہمارے مشاہدہ میں حکیموں میں سے حضرت مولوی قطب الدین صاحب مرحوم اور ایلو پیتھی علاج کرنے والوں میں حضرت بھائی محمود احمد صاحب کا ذکر کر رہا ہوں ان کا خاص طریق یہ تھا کہ ان کی زبان پر تسبیح و تحمید کا ورد جاری رہتا تھا وہ کام بھی کرتے جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں بھی مشغول رہتے تھے۔نماز با جماعت کے بڑے پابند تھے۔گھڑی جیب میں ہوتی تھی۔جو نہی نماز کا وقت ہوا سب کام کاج چھوڑ کر مسجد کا رخ کرتے تھے۔اپنی دکان میں ہوتے تو وہاں کی قریبی مسجد میں نماز با جماعت ادا فرماتے اور اپنے محلہ یعنی دار الرحمت میں ہوتے تو محلہ کی مسجد میں نماز پڑھتے۔جمعہ کے لئے عام طور پر ان کی جگہ جامع مسجد کی صف اول میں ہوتی تھی۔عبادت کا پورا التزام کرنے کے باوجودطبیعت میں نہایت تواضع اور انکساری تھی۔سوائے دینی غیرت کے مواقع کے ان کی طبیعت میں تیزی نہیں آتی تھی۔بچوں سے بہت انس تھا۔راہ گذرتے ہوئے بھی کھیلنے والے بچوں اور بچیوں سے پیار کے ساتھ گفتگو کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں مالی فراخی بھی عطا فرمائی تھی اور طبیعت میں جود وسخا بھی رکھی تھی۔سلسلہ کے علانیہ چندوں میں بھی شریک ہوتے تھے اور غرباء ومستحقین کی مخفی امداد بھی ان کا شعار تھا۔تقسیم ملک کے بعد حضرت بھائی صاحب کا مطلب سرگودھا میں منتقل ہو گیا۔شروع میں قادیان کی جدائی سے بہت زیادہ غمگین رہا کرتے تھے تاہم اپنے کام اور بنی نوع انسان کی خدمت میں ہمہ تن مصروف تھے۔چند ہی دنوں میں ان کے شفا خانہ میں وہی صورت حال پیدا ہوگئی جو قادیان میں تھی۔خلاصہ یہ ہے کہ حضرت بھائی محمود احمد صاحب بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔احمدیت کا ایک