تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 283
تاریخ احمدیت۔جلد 26 283 سال 1970ء جب لیکچر ختم ہوا تو سید حامد شاہ صاحب علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ چار پٹھان ہیں جو کہ سوائے پشتو کے کوئی اور زبان نہیں جانتے۔رستے کا واقف ان کے ساتھ جائے تو بہتر ہو گا۔خاکسار نے عرض کی کہ بندہ حاضر ہے۔چنانچہ ہم پانچوں عصر کے وقت چل کر رات پسر ور آ گئے۔چونکہ حضرت اقدس علیہ السلام نے سیالکوٹ سے دوسرے یوم چل کر رات بٹالہ قیام فرمانا تھا اس لئے میں نے موقعہ غنیمت سمجھ کر یہ نیت کر لی کہ جس طرح ہو سکے دوستوں کی رفاقت کا فائدہ اٹھا کر حضرت اقدس علیہ السلام کو بٹالہ جاملیں گے۔چنانچہ رات کے دو بجے پسرور سے چل کر ہم سب رات کے وقت ڈیرہ بابا نانک پہنچے۔میں نے دوستوں کو کھانا کھلا کر تیار کر لیا کہ چلو حضرت اقدس علیہ السلام بٹالہ میں ہیں چنانچہ پھر رات کو چل کر قریب نہر کے تھوڑا قیام کیا مگر مجھے نیند نہ آتی تھی کیونکہ حضور کا اشتیاق دل میں جوش ماررہا تھا کہ جس طرح ہو سکے حضور کو بٹالہ میں ملیں۔چنانچہ بار بار اصرار کر کے میں نے ہمرا ہی دوستوں کو اٹھا دیا۔جب بٹالہ پہنچ کر سرائے میں گئے تو معلوم ہوا کہ حضور قادیان تشریف لے گئے ہیں۔چنانچہ اس وقت مجھے نہایت صدمہ ہوا۔ہم سب شہر کو گئے اور ہمراہی دوستوں کو کھانا کھلایا۔جب شہر سے نکل کر قادیان کا رخ کیا جہاں سے قادیان کی سڑک رخ کرتی ہے تو حضور علیہ السلام کے یکے کھڑے تھے۔۔۔اس وقت ہماری خوشی کا جو حال تھا وہ محتاج بیان نہیں۔چنانچہ ہم سب پا پیادہ حضور کے ہمراہ قادیان پہنچے۔میرے ہمراہی دوستوں کے نام یہ تھے۔غلام رسول صاحب ( دکان کرتے ہیں )، محمد الیاس، عبدالغفار خاں ، عبداللہ خاں۔یہ دوست ایک ہاتھ سے معذور تھے۔انہوں نے ہی باغ میں۔11 چور کو پکڑا تھا“۔مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے آپ کی وفات پر ایک مضمون میں لکھا کہ مجھے اپنے قادیان کے ابتدائی ایام سے حضرت بھائی صاحب موصوف کو دیکھنے کا موقعہ ملا ہے ہم مدرسہ احمدیہ میں پڑھتے تھے بیمار ہونے پر دوا لینے کے لئے ہسپتال جاتے تو اکثر حضرت بھائی صاحب کے ذریعہ دوا ملتی۔زخموں کی مرہم پٹی آپ کرتے۔آپ ہر چھوٹے بڑے سے نہایت خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے اور ہنستے ہنساتے زخم اور پھوڑے پھنسیوں پر پٹی لگا دیا کرتے تھے اور ساتھ ساتھ دعا بھی کرتے۔دوا بناتے وقت نسخہ لکھتے وقت ، زخم کو چیرتے وقت اللہ شافی“ کا ورد آپ کی زبان پر ہوتا تھا۔جب انہوں نے اپنا علیحدہ شفاخانہ کھولا تو وہ بھی مرجع خلائق بن گیا۔وہاں سے قیمتی دوائیں بھی رعائتی قیمت پر ملتی تھیں اس پر بھائی صاحب کی مرنجان مرنج طبیعت اور نہایت شگفته گفتگومزید براں