تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 281 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 281

تاریخ احمدیت۔جلد 26 281 سال 1970ء رٹ کی درخواست دائر کی گئی۔فریق مخالف کا انتخاب ناجائز قرار پایا اور دوبارہ الیکشن ہوا اور خدا کے فضل سے وہی احمدی جو پہلے نا کام ہوا تھا ممبر ہو گیا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب مرحوم کی رؤیا کو سچا کر دکھایا۔مرحوم اسلام اور احمدیت کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔حضرت ڈاکٹر بھائی محمود احمد صاحب ڈنگوی۔میڈیکل ہال قادیان ولادت: قریباً ۱۸۸۷ء بیعت: جون ۱۹۰۲ء 1 وفات : ۲۹ جون ۱۹۷۰ء آپ بچپن ہی میں ڈنگہ ضلع گجرات سے قادیان آگئے تھے یہیں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں تعلیم پائی۔پہلے نور ہسپتال میں ایک لمبا عرصہ خدمات سرانجام دیں پھر قادیان میں عرصہ دراز تک خود اپنا مطلب کیا اور ایک کامیاب معالج کی حیثیت سے بہت نام پیدا کیا اور اس حیثیت میں مخلوق خدا کو بہت فیض پہنچایا۔قیام پاکستان کے بعد سرگودھا میں رہائش اختیار کی اور یہاں بھی مخلوق خدا کی خدمت سرانجام دینے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ میں شفار بھی تھی اور لوگ علاج کی غرض سے دور دور سے آپ کے پاس کھنچے چلے آتے تھے۔آپ نہایت مخلص و فدائی احمدی ، عبادت گذار اور دعا گو بزرگ تھے۔ذکر الہی آپ کی روح کی غذا تھی۔زبان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہتی۔آپ کو نظام الوصیت سے وابستگی اور تحریک جدید کے پانچیزاری مجاہدین میں شمولیت کا شرف بھی حاصل تھا۔10 حضرت بھائی محمود احمد صاحب کے قلم سے زمانہ مسیح موعود علیہ السلام سے متعلق بعض روایات درج ذیل کی جاتی ہیں۔ایک دفعہ امساک باراں سے لوگ بہت پریشان ہوئے۔کئی دوست چاہتے تھے کہ حضور کی خدمت میں نماز استسقاء کے واسطے عرض کی جائے۔چنانچہ ایک دوست نے نماز استسقاء کے واسطے عرض کی۔حضور نے ارشاد فرمایا۔اچھا کل ، جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا۔چنانچہ دوسرے روز بارش کا سلسلہ شروع ہوا جو متواتر سات دن لگا تار رہا حتی کہ لوگ تنگ آگئے کہ الہی بارش کو بند کر۔کرم دین بھیں کے مقدمہ کے دوران میں ایک دفعہ حضور بوقت سحری قادیان دارالامان سے گورداسپور تاریخ کے واسطے روانہ ہوئے۔تین یکے تھے۔ایک یکہ پر حکیم فضل دین صاحب مرحوم۔پ کے ہمراہ جو دوست سوار تھے ان کا نام مجھے یاد نہیں۔دوسرے یکہ میں حضور اور آپ کے ہمراہ