تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 261
تاریخ احمدیت۔جلد 26 261 سال 1970ء کے لئے ساری دنیا اکٹھی ہو گئی مگر ساری دنیا کی طاقتیں اکٹھی ہو کر بھی اس آواز کو خاموش نہیں کر سکیں۔ازاں بعد فر مایا کہ میرے جیسا عاجز انسان جب افریقہ کے دورے پر گیا اور واپس آیا تو وہاں کے ایک پیرا ماؤنٹ چیف نے مجھے لکھا کہ آپ نے مجھ سے معانقہ کیا تھا جب لوگوں کو پتہ لگا کہ آپ نے مجھ سے معانقہ کیا ہے تو وہ میرے پاس آئے اور انہوں نے میرے جسم کے ساتھ اپنے جسم ملے اور میرے جسم کو چوما اور اس طرح انہوں نے برکت لینے کی کوشش کی۔لیکن میں تو جانتا ہوں کہ مجھ میں کوئی خوبی نہیں البتہ میں اس یقین پر بھی قائم ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو برکتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل لائے ہیں ان کی کوئی مثال نہیں۔آپ کو جو بشارتیں اور وعدے دیئے گئے کہ جہاں تیرے کامل متبع رہیں گے ان کے درودیوار میں بھی برکت ڈال دی جائے گی یہاں تک کہ جس چیز کو وہ ہاتھ لگائیں گے اس کو بھی بابرکت بنادیا جائے گا۔وہ سچ ہیں۔یہ وعدے اور یہ بشارتیں ہمیں ملی ہیں ان وعدوں اور بشارتوں پر اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات پر کامل یقین پیدا کرنے کے لئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک طرف حسن کے اور دوسری طرف احسان کے جلوے دیکھنے کے لئے آپ لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں۔آخر میں حضور نے احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ عاجزانہ راہوں کو مضبوطی سے پکڑو۔صراط مستقیم پر مضبوطی سے قائم ہو جاؤ۔عاجزانہ طور پر اس کے حضور جھکو اور اس سے دعائیں کرتے رہو۔ہر ایک کی بھلائی چاہوں۔کسی سے دشمنی نہ کرو خواہ وہ ساری عمر تم سے دشمنی کرتا رہا ہو۔معاف کرنے کی عادت ڈالو۔خدا کے بندوں سے پیار کرو جو مظلوم ہیں ان کے ظلم دور کرنے کی جہاں تک تمہیں طاقت ہے کوشش کرو۔جو حقوق سے محروم ہیں ان کے حقوق دلانے کی سعی کرو۔خدا کے ہو جاؤ۔اس کی اطاعت کا جوا اپنی گردنوں پر رکھ کر اپنی زندگی کے دن گزارو۔اللہ تعالیٰ تمہیں وہ کچھ دے گا کہ قیامت تک تمہاری نسلیں تم پر فخر کریں گی۔189 مستورات سے خطاب ۲۷ دسمبر کو حضور نے احمدی خواتین کے جلسہ سالانہ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا:۔ایک تصویر تو عورت کی وہ تھی کہ مرد کی دھتکاری ہوئی انسانیت اس امر کی طرف جھکتی بھی تھی اور اس سے بیزار بھی تھی۔مذہب اس کی حفاظت کے لئے عملاً تیار نہ تھا۔بتوں پر اکثر اس کی قربانی کی جاتی تھی۔پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم عورت