تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 258
تاریخ احمدیت۔جلد 26 258 سال 1970ء اب یہاں پر مجھے ایک اور واقعہ در پیش آیا جس نے مجھے پاتال تک ہلا دیا۔حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام اور اولین اصحاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک مزاروں پر دعا کے بعد میں محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے والدین کو جو وہاں سے قریب ہی آرام کی ابدی نیند سور ہے ہیں۔ان کے فرزند کا آخری سلام پہنچانے اور اپنی طرف سے الوداع کہنے کے لئے ان کے مزار پر حاضر ہوا۔میں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کر اپنی آنکھوں پر رکھے۔محترم چوہدری صاحب موصوف کی والدہ کی قبر کے سامنے کھڑے ہوئے ابھی مجھے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ یکا یک میں نے اپنے دل میں شدید ہیجان خیز رقت کے جذبات کو محسوس کیا۔ایک ایسی کیفیت جس سے اب تک میں نا آشنا تھا۔میری آنکھوں سے ایک نہ تھمنے والا آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا اسی لمحہ میں نے اپنی بند آنکھوں سے دیکھا۔( آپ اسے خواب کہہ لیجئے۔اس کا نام واہمہ یا تصور رکھ لیجئے۔آپ جو چاہیں اس کا نام رکھیں لیکن میرے لئے ایسا ہی حقیقی تھا جیسے یہ کا غذ جس پر اس وقت میرا قلم چل رہا ہے ) کہ قبر کے سامنے زمین پر ایک دھبہ سا نمودار ہوا ہے جیسے گیلی جگہ ہو۔زمین کا یہ چھوٹا سا گول ٹکڑا پلیٹ کے برابر دھنستا ہوا معلوم اور محسوس ہوا۔اس سوراخ میں سے پانی نکلا جو پہلے کیچڑ سا تھا پھر چند لمحوں میں ہی یہ صاف،شفاف ٹھنڈے اور شیریں پانی کا چشمہ بن کر ابل پڑا۔اس نادر چشمے کے پانی کے کھولنے کا زیر و ہم ایسے ہی تھا جیسے قلب انسانی کی حرکت۔میں نے جو کچھ اس لمحہ میں پایا اسے حیطہ تحریر میں نہیں لا سکتا۔میری ہستی کو ہلا کے رکھ دیا گیا۔میرے دل میں اضطراب اور خوشی کے ملے جلے جذبات تھے۔میری آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک نہ تھمنے والا سیلاب رواں تھا۔تب میں نے جان لیا۔ہاں میں نے پورے یقین کے ساتھ جان لیا کہ یہ سرزمین بے پناہ 66 طاقت اور لازوال قوت کا عظیم سرچشمہ ہے۔جلسہ سالانہ ربوہ ۱۹۷۰ء 187 اس سال ربوہ میں سالانہ جلسه ۲۶، ۲۷، ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء کو منعقد ہوا۔یہ جلسہ نہایت پُرشکوہ اور خدائی افضال و انعامات کا آئینہ دار تھا جس میں شمع احمدیت کے کم و بیش ایک لاکھ پروانے شامل ہوئے۔خدائی وعدوں کے بموجب اللہ تعالیٰ کی تیار کی ہوئی اقوام شرق و غرب میں سے جو احباب تشریف لائے ان میں امریکہ، انگلستان، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ ، مغربی جرمنی ، زیمبیا ، کینیا، یوگنڈا، تنزانیہ،