تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 244
تاریخ احمدیت۔جلد 26 244 سال 1970ء اللہ تعالیٰ کی تائید سے جماعت اسلامی کی اہمیت اور مرکزیت میں روز بروز تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔اس لئے میں کہہ سکتا ہوں کہ ان حالات میں جماعت کے ہارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۱۱۔انگریزی اخبار ڈان نے مودودی صاحب کی اپنی جماعت کی کامیابی کے متعلق پُر امیدی کی خبر یوں دی: مودودی صاحب جماعت اسلامی کی واضح کامیابی کے متعلق پرامید ہیں 177- لاہور ، ۶ ، دسمبر۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ، جماعت اسلامی کے راہنما، نے آج اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جماعت (اسلامی) کے نامزدگان رائے شماری میں واضح کامیابی حاصل کریں گے جبکہ سوشلسٹ نظریہ رکھنے والوں کی قسمت میں مکمل نا کامی لکھی جا چکی ہے۔178 ملک میں عام انتخابات سے ایک رات قبل پریس کو دیئے گئے بیان میں مولانا مودودی نے کہا کہ خدا کے فضل سے (اس کی) جماعت طاقت پکڑ رہی ہے اور اس کا اثر روز بروز بڑھ رہا ہے۔موجودہ صورتحال میں اس کی ہار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جماعت اسلامی کے راہنما نے اپنی پارٹی کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے منشور پر کلیپ عمل درآمد کرے گی۔انہوں نے کہا کہ جماعت (اسلامی) اگر واضح اکثریت حاصل نہ بھی کرے تب بھی اس کا ہر ایک منتخب نمائندہ منشور کے ایک ایک لفظ پر سنجیدگی سے عمل درآمد کی بھر پور کوشش کرے گا۔اس وقت جماعت کی موجودگی باقی بہت سے گروہوں اور پارٹیوں کی نسبت زیادہ موثر ثابت ہوگی جب وہ ذاتی مقاصد کے حصول کی خاطر قومی مسائل کو پس پشت ڈال رہے ہوں گے۔پیپلز پارٹی کے خلاف کفر کے فتوے پیپلز پارٹی کی مقبولیت کو دیکھ کر روایتی سیاستدان اور رجعت پسند مولوی خوفزدہ ہو گئے۔سرمایہ دار اور جاگیر دار بھی پی پی پی کے منشور سے خوفزدہ تھے۔سیاست کا انداز بدل رہا تھا۔چنانچہ ان قوتوں نے آخری حربے کے طور پر پی پی پی کے خلاف کفر کے فتوے صادر کرا دیئے۔تین سو سے زائد علماء نے فتویٰ جاری کیا کہ جو شخص پی پی پی کو ووٹ دے گا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔۱۹۷۰ء کے انتخابات میں اسلام اور سوشلزم کی نظریاتی کشمکش میں عوام نے اسلامی سوشلزم کے حق میں فیصلہ دیا۔پاکستان کے ترقی پسند دانشوروں، ادیبوں ،صحافیوں اور شاعروں نے بھی پی پی پی کا ساتھ دیا۔پی پی پی نے نظریاتی معرکہ جیت لیا۔مذہبی جماعتوں خاص طور پر جماعت اسلامی کو بڑا