تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 238
تاریخ احمدیت۔جلد 26 238 سال 1970ء اس نفرت کو نہیں مانتے جو آپ لوگ پیدا کرتے اور احمدی اور غیر احمدی کے سوال پر وہ اعتقاد نہیں رکھتے تو آپ ہمارا یہ حق کیوں چھینتے ہیں کہ ہم پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں؟ آخر ہم نے پاکستان بنانے میں حصہ لیا۔ریڈ کلف کے سامنے چوہدری ظفر اللہ خاں پیش ہوئے۔کشمیر کا مقدمہ چوہدری ظفر اللہ خاں نے یو۔این۔او میں سالہا سال لڑا۔اس ملک کی اقتصادیات کو مستحکم کرنے میں ہمارا بہت بڑا حصہ ہے۔آج بھی حضرت مسیح موعود کے لخت جگر پوتے حضرت ایم ایم احمد صاحب منصوبہ بندی کمیشن کے چیئر مین ہیں۔پاکستان کی اکانومی کو بڑھانے اور اٹھانے میں ہم نے اپنی تعداد سے کئی سو گنا زیادہ حصہ لیا ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ جوڑیاں کے مورچے پر کون گیا تھا۔جہاد کشمیر کا آغاز کس نے کیا تھا ؟ وہ ہستی آج ربوہ کے ( قبرستان شہدا ) میں آسودہ خواب نہیں؟ کیا اس کا نام جنرل اختر ملک نہیں اور وہ ستمبر کی جنگ کا ہیرو نہیں تھا؟ (جی ہاں! اُن کے برادر نسبتی غالبا سالے ملک محمد جعفر ایڈووکیٹ ۲۷ جولائی کو پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں ( چٹان ) کیا ملکی سیاست ہی ایسی چیز ہے کہ ہمارے لئے آپ کے نزدیک شجر ممنوعہ ہے؟ ہم بھٹو سے نہ ملیں تو ابوالاعلیٰ مودودی سے مل جائیں، جو ہمیں دیکھنا ہی نہیں چاہتا ؟ نصر اللہ خان سے مل جائیں جو ہر جلسے میں ہمارےخلاف ٹھونگا مار جاتا اور عطاء اللہ شاہ بخاری کا پروردہ ہے؟ جنرل سرفراز خان کا ساتھ دیں جس نے احمدیت سے اپنی لا تعلقی کو بکمال کت وفر پیش کیا ؟ حالانکہ احمدیت سے اس کا تعلق ہی نہیں تھا کیا ممتاز دولتانہ پر بھروسہ کریں؟ کیا آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود کا معجزہ نہیں سمجھتے کہ احمدیت کے ان مخالفوں کو وہی غلام غوث اور مفتی محمود لتاڑ اور چتھاڑ رہے ہیں جنہوں نے ۱۹۶۸ء میں ختم نبوت کے مسئلے پر اپنا اسٹیج آپ کی نذر کر دیا؟ پھر آپ رہا ہوئے تو آپ کو اسلام کا ہیرو بنا کر پیش کیا تھا۔اقبال کا مصرعہ ہے کہ۔پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے خدا نے احمدیت پر میرے یقین کو اور پکا کر دیا ہے کہ جولوگ احمدیت کے خلاف ہیں وہ غلام غوث کے لاؤ لشکر سے پٹ رہے ہیں۔ہمارے کعبے کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اس صنم خانے کے برہمنوں سے کرائی ہے“۔150 اس طرح بہت سے مخالفانہ بیانات بھی شائع ہوتے رہے۔مثلاً میاں ممتاز دولتانہ نے مسلم لیگ کی طرف سے بیان دیا کہ :