تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 236 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 236

تاریخ احمدیت۔جلد 26 236 سال 1970ء پر پڑنے والی ہیں کما حقہ ادا کر سکیں۔اس میں شک نہیں کہ آگے چل کر خدمت دین کا بار آئندہ آنے والوں نے ہی اٹھانا ہے ان کے وقت میں جس قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہوگی وہ انہوں نے ہی کرنی ہے لیکن خود قربانی کرنے کے ساتھ ساتھ نئی نسلوں کے ذہنوں کی تربیت اس طرح کرنا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے لگ جائیں اور آئندہ ان کے کندھوں پر جو بوجھ پڑنے والا ہے اسے اٹھانے کے قابل ہو جا ئیں یہ آپ خواتین کی ذمہ داری ہے۔اس معرکہ آراء اور بصیرت افروز خطاب کے بعد حضور نے اجتماعی دعا کرائی جس میں جملہ خواتین اور مہمان اصحاب شریک ہوئے۔بعد ازاں حضور نے مہمان اصحاب کے درمیان رونق افروز ہو کر انہیں اپنے ساتھ چائے نوش کرنے کا شرف بخشا۔خواتین نے حضرت بیگم صاحبہ کے ساتھ چائے نوش کرنے کی سعادت حاصل کی۔جس کے بعد یہ برکتوں سے معمور تقریب مغرب کے وقت بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔157 ۱۹۷۰ء کے انتخابات اور جماعت احمدیہ کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ محمد ایوب خان صدر پاکستان نے ایک ملک گیر ایجی ٹیشن کے نتیجہ میں ۲۵ مارچ ۱۹۶۹ء کو ملک کی باگ ڈور جنرل آغا محمد یحییٰ خان کے حوالے کر دی۔جنہوں نے مارچ ۱۹۷۰ء کے آخر میں ملک بھر میں عام انتخابات اور اس کے قانونی ڈھانچے (Legal Work Order) کا اعلان کر دیا جس سے ملک کے دونوں حصوں میں انتخاب کی زبر دست تیاریاں شروع ہو گئیں۔انتخابات کے دسمبر ۱۹۷۰ء کو منعقد ہوئے جن کی بنیاد ایک آدمی ایک ووٹ کے اصول پر تھی۔الیکشن کے دوران جماعت احمدیہ کے خلاف مخالفانہ بیانات، جھوٹی خبروں اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کا گویا سیلاب آ گیا۔اس سلسلہ میں شورش کا شمیری صاحب ایڈیٹر چٹان نے جماعت احمدیہ اور اس کے مقدس امام کے خلاف افترا پردازی کی ایک خاص مہم چلائی اور اپنے جھوٹے پراپیگنڈا میں گوئبلز (Goebbels Jozeph) کے کان کاٹ ڈالے مثلاً ایک بار لکھا کہ ” خلیفہ ناصر محمود اپنے مسلک کی رُو سے مسلمانوں کی اجتماعی وحدت کے خلاف ہیں۔وہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ، مولانا احتشام الحق تھانوی ، مولانا ظفر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع صاحب کی جمعیۃ العلماء اور اس کے رسوخ کو مجروح کرنے کے لئے بھٹو کی خفیہ یقین دہانی پر پیپلز پارٹی کے ہمنوا ہیں۔چنانچہ انہوں نے اپنے بعض پیروؤں کو