تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 235 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 235

تاریخ احمدیت۔جلد 26 235 سال 1970ء قدر خدمات کا ذکر فرمایا اور پھر وہاں کی احمدی خواتین کے جذبہ قربانی و ایثار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا وہاں کی احمدی عورت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بلحاظ قربانی وہاں کے احمدی مرد سے پیچھے نہیں ہے بلکہ شاید مالی قربانی کے لحاظ سے مردوں سے آگے ہی ہو۔حضور نے فرمایا میرے علم میں افریقی ممالک کا کوئی اکیلا احمدی مرد ایسا نہیں ہے کہ جس نے بیک وقت پچپیں تمہیں ہزار پونڈ چندہ دیا ہو۔ہاں افریقہ کی ایک احمدی بہن ایسی ضرور ہے جس نے میرے دورہ افریقہ کے دوران اتنی خطیر رقم بطور چندہ پیش کی اور بڑی بشاشت کے ساتھ پیش کی۔نائیجیریا میں میں نے کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ اسلام کی تبلیغ کو زیادہ وسیع کرنے کے لئے ایک ریڈیو سٹیشن قائم کیا جائے۔اس کے لئے میں عورتوں سے اپیل کروں گا کہ وہ مالی قربانیاں پیش کریں۔چنانچہ وہاں کی ایک احمدی بہن نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا نہایت اعلیٰ نمونہ پیش کیا اس احمدی بہن نے چھپیس تمیں ہزار پونڈ بطور چندہ دینے کا وعدہ کیا اور کیا بھی بہت بشاشت کے ساتھ۔وہاں کی احمدی خواتین میں دین کی خاطر قربانی کرنے کا اتنا شوق اور جذبہ پایا جاتا ہے کہ شاید آپ ( یعنی پاکستان کی احمدی خواتین ) بھی ان کا مقابلہ نہ کرسکیں۔اسی لئے میں نے مغربی افریقہ کے دورہ سے واپس آنے کے بعد ایک خطرہ کا اظہار کیا تھا۔میں نے کہا تھا کہ آپ کو یہاں تربیت کے مواقع حاصل ہیں برخلاف اس کے افریقہ کی احمدی خواتین کو تربیت کے یہ مواقع حاصل نہیں اور اس لحاظ سے وہ یہاں کی احمدی مستورات سے پیچھے ہیں لیکن اگر انہیں بھی تربیت کا یہ موقع مل گیا تو وہ یقیناً آپ سے آگے نکل جائیں گی۔خدا کسی کا رشتہ دار نہیں ہے کہ وہ اس سے خواہ وہ قربانی کرے یا نہ کرے ضرور محبت کرے گا۔اس کی نگاہ میں وہی معزز اور پیار کے لائق ہے جو اس کے منشاء کے مطابق عمل کرتا اور اس کی راہ میں بڑھ چڑھ کر قربانیاں کرتا ہے۔جس مقام پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے وہ ایسا نہیں کہ آپ خواتین میں سے قربانیوں کے میدان میں جو پیچھے رہ جائیں میں اپنی اس بچی کو زیادہ عزیز رکھوں۔قربانی دینے والا ہی میری توجہ کو زیادہ کھینچے گا اور میری دعاؤں کا مستحق ہوگا۔حضور نے احمدی خواتین کو اس فرض کی طرف توجہ دلائی کہ وہ اپنی اس بے مثال خصوصیت پر کسی قسم کا فخر کرنے کی بجائے عاجزانہ راہیں اختیار کریں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ آپ فی الواقع اپنے بے حد کرم کرنے والے رب کے شکر گزار ہیں اور شکر گزاری کا ایک نہایت اہم عملی تقاضا یہ ہے کہ آپ نئی نسلوں کی تربیت اس رنگ میں کریں کہ وہ غلبہ دین کی ان ذمہ داریوں کو جو آگے چل کران