تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 234
تاریخ احمدیت۔جلد 26 234 سال 1970ء حضرت خلیفہ ایسیح کی ایمان افروز تقریر سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے بصیرت افروز خطاب کے آغاز میں بتایا کہ دنیا میں بہت کم ادوار ایسے آئے ہیں کہ جن میں مردوں اور عورتوں کو کسی مطمح نظر کے حصول کے لئے بلا تفریق و امتیاز ایک جیسے اعمال بجالانے اور ایک جیسی قربانیاں کرنے کی توفیق ملی ہو۔تاریخ انسانیت میں اسلام کی نشاۃ اولیٰ اور نشاۃ ثانیہ کے دور کے سوا کہیں یہ نظر نہیں آئے گا کہ مردوں کے پہلو بہ پہلوا نہی جیسی قربانی کرنے والی عورتیں بھی پیدا ہوئی ہوں اور وہ قربانیوں کے میدان میں مردوں سے پیچھے نہ رہی ہوں۔اس تمہید کے بعد حضور نے اسلام کی نشاۃ اولیٰ کے دور میں مخلص اور فدائی مردوں کے پہلو بہ پہلو مخلص اور فدائی عورتوں کی عدیم النظیر قربانیوں کا کسی قدر تفصیل سے ذکر فر مایا اور اس ضمن میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک کے دو واقعات کے علاوہ جنگ یرموک (ارض شام کا ایک مقام جہاں مجاہدین اسلام نے حضرت خالد بن ولید سیف اللہ کی سرکردگی میں ۱۵ھ/ ۶۳۶ء میں ایک فیصلہ کن جنگ لڑی اور رومیوں کو شکست فاش ہوئی اور ان کے قدم اکھڑ گئے ) کے موقع پر مسلمان مجاہدین کے پہلو بہ پہلو مسلم خواتین کی بہادری اور شجاعت کے بے مثال کارناموں پر مفصل روشنی ڈالی اور پھر بتایا کہ تین صدیوں تک نشاۃ اولیٰ کا یہ دور ممتد رہا بعد ازاں دنیا ایک طویل زمانہ کے لئے عورتوں کی قربانیوں کے ان عدیم النظر نمونوں سے خالی ہوگئی۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور بے پایاں احسان کے نتیجہ میں اب پھر وہی زمانہ عود کر آیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس دور میں احمدی مستورات کو مردوں کے دوش بدوش ایک جیسی قربانی کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جماعت کی جس کی نظیر آج کی دنیا میں نہیں ملتی۔آدم سے لے کر موجودہ زمانہ تک ( امت مسلمہ کی پہلی تین صدیوں کے سوا ) دنیا کی کوئی دوسری قوم اس کا ہر گز مقابلہ نہیں کر سکتی۔اس مرحلہ پر حضور نے پاکستان کی احمدی خواتین کو اپنی قربانیوں کے معیار کو مزید بلند کرنے کی تلقین فرماتے ہوئے افریقہ کی احمدی خواتین کے جذبہ قربانی وایثار کی بہت تعریف فرمائی۔حضور نے اپنے دورہ مغربی افریقہ کا ذکر کرتے ہوئے پہلے تو اس دورہ میں وہاں کی ہزاروں ہزار احمدی خواتین اور ہزاروں ہزار بچوں کے ساتھ ملنے ، ان کے ساتھ کمال درجہ شفقت اور محبت و پیار کا سلوک فرما کر ان کی روحانی اسیری اور سیرابی کا سامان کرنے کے سلسلہ میں حضرت بیگم صاحبہ کی نہایت درجہ قابل