تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 233
تاریخ احمدیت۔جلد 26 233 سال 1970ء السلام کے بعض افراد، صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے ناظر وکلاء صاحبان، وقف جدید کے ناظمین صاحبان، فضل عمر فاؤنڈیشن کے سیکرٹری صاحب، چیئر مین صاحب ٹاؤن کمیٹی ربوہ ،مجالس انصار الله و خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے صدرانِ کرام ، مردوں کے تعلیمی ادارہ جات کے سربراہان اور مغربی افریقہ کے مجاہدین احمدیت شامل تھے۔جناب مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعتہائے احمد یہ صوبہ پنجاب بھی خصوصی دعوت پر سر گودھا سے اس تقریب میں شریک ہوئے۔ان سب حضرات کی نشست اور ضیافت کا اہتمام میزبان تنظیموں اور اداروں کی طرف سے سید محمود احمد صاحب ناصر پروفیسر جامعہ احمدیہ نے کیا اور اس کام میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض نو عمر نو نہالوں نے ان کا ہاتھ بٹایا۔لاؤڈ سپیکر کے انتظام کو مردوں کے احاطہ تک وسیع کر کے اس امر کا اہتمام کیا گیا تھا کہ پیارے آقا کی تقریر سے وہ بھی مستفید ہوسکیں۔حضور انور ٹھیک چار بجے لجنہ ہال کے عقبی دروازہ سے سرخ گلاب کے پھولوں کے ہار پہنے ہوئے مع حضرت بیگم صاحبہ سٹیج پر جلوہ افروز ہوئے۔تمام خواتین احتراماً کھڑی ہو گئیں۔تقریب کا آغاز اس مقدس تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید (سورۃ افتح کے آخری رکوع) سے ہوا جو امتیاز بیگم صاحبہ بی اے نے کی۔تلاوت کے بعد امتہ الکریم کو کب صاحبہ بنت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے ایک استقبالیہ نظم پڑھ کر سنائی جس کا پہلا شعر تھا ے شکر صد شکر جماعت کا امام آتا ہے اللہ الحمد کہ بانیل مرام آتا ہے بعدۂ صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبہ سیکرٹری ناصرات لجنہ اماءاللہ مر کز ی نے احمدی خواتین کی مذکورہ بالا مرکزی تنظیموں اور تعلیمی اداروں کی طرف سے حضرت خلیفہ امسیح اور حضرت بیگم صاحبہ کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا جس میں حضور کے نہایت کامیاب دورہ مغربی افریقہ، غلبہ حق کے ضمن میں اس کی بے انتہا اہمیت اور اس تعلق میں اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید و نصرت اور عظیم الشان فتوحات کے ظہور پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے انتہائی گہرے جذبات عقیدت ، غلبہ دین کے لئے جذبہ خدمت و فدائیت اور دلی مسرت کا اظہار کیا گیا تھا۔سپاسنامہ کے جواب میں حضور نے ایک معرکۃ الآراء تقریر ارشاد فرمائی۔