تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 219 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 219

تاریخ احمدیت۔جلد 26 219 سال 1970 ء کیلئے کھڑی ہوئی۔کیونکہ اسے پتہ تھا کہ مسلمان تعداد میں تھوڑے ہیں اور دشمن تعداد میں کہیں تین گنا، کہیں چار گنا کہیں پانچ گنا بلکہ کہیں تو چھ گنا زیادہ تھا اس نے سوچا کہ اگر اسی طرح مسلمان مارے گئے اور ان کی جگہ لینے والا کوئی نہ ہوا تو کمزوری پیدا ہو جائے گی۔چنانچہ اس نے اپنے خاوند کی شہادت پر نوحہ کرنے کی بجائے اور آہ وفغاں کی آواز بلند کرنے کی بجائے تیر کمان اپنے ہاتھ میں پکڑا اور میدان جنگ میں اتر گئی۔تین دن کی بیا ہتا کم عمر بچی تھی وہ مگر اس کے دل میں ایک جذبہ اور ایک جوش تھا، خدا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک محبت تھی وہ وہاں جا کر دعائیں کرتی ہوگی کہ اے خدا! میں کمزور اور ابھی کل کی دلہن ہوں۔عمر کے لحاظ سے کم اور جنگ کا مجھے کوئی تجربہ نہیں۔میں نے تیرے لئے تیر اور کمان کو اٹھایا ہے تو میرے نشانے میں برکت ڈال۔یہ تھیں اس وقت کی دعا ئیں۔جس وقت وہ تیر کمان لے کر تیراندازوں کی صفوں میں شامل ہوئی ( تیر اندازوں کی صفیں اور ہوتی تھیں۔ان کا کام ہی اور تھا۔جب یہ تیر اندازوں کی صفوں میں شامل ہوئی) تو کسی کو کوئی پتہ ہی نہیں تھا کہ ایک عورت ہمارے اندر آ کر شامل ہو گئی ہے کیونکہ اس وقت جنگ ہورہی تھی۔اس چند دن کی بیاہتا بیوہ کی دلی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ نے سنا اور اس کے پیار کو دیکھا تو اس پر بڑا فضل کیا چنانچہ پہلا تیر جو اس نے چلایا وہ اس پادری پر چلایا جو دمشق کی فصیل کے اوپر بڑی لمبی صلیب لے کر کھڑا تھا اور مسلمانوں کے خلاف رومی سپاہیوں کو جوش دلا رہا تھا۔چنانچہ اس عورت کا تیر نشانے پر بیٹھا اور وہ پادری صلیب سمیت فصیل پر سے مسلمانوں کی طرف آ گرا۔جس سے رومیوں کے دل بیٹھ گئے۔کیونکہ صلیب ان کی گرگئی پادری ان کا مارا گیا۔پھر ان کا جو سپہ سالا رتھا ٹامس وہ ایک دن با ہر نکلا اور قریب تھا کہ اس دروازے پر جو مسلمان جرنیل تھا وہ اس پر حملہ کر دے کہ اچانک ایک تیر اس کی آنکھوں میں آکر لگا اور وہ گر گیا۔یہ اسی چند دن کی بیاہتا بیوہ کا تیر تھا۔اسی طرح اس نے اپنی دعاؤں کے زور سے، اپنی محبت کے جوش میں، جو اس کے دل میں سمندر کی طرح موجزن تھی یا اس آگ کے احساس کے نتیجہ میں جو غیر کی محبت کو جھلس دیتا اور صرف اللہ کی محبت سے انسان کا دل معمور ہو جاتا ہے وہ