تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 218
تاریخ احمدیت۔جلد 26 218 سال 1970ء میں جب وہ صف آرائی سے فارغ ہوئے تو اس عرصہ میں یہ سوار خدا جانے کتنے رومیوں کو مار چکا تھا۔بالآخر حضرت خالد بن ولید نے اس سوار کو آواز دی کہ ٹھہر جاؤ لیکن یہ نہیں رکا۔چند آدمی اس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ تمہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔سپہ سالار تمہیں ٹھہرنے کا حکم دے رہا ہے اور تم اس کی طرف توجہ نہیں کر رہے لیکن اس نے سنا آن سنا کر دیا اور گھوڑے کو ایڑی لگائی اور ایک اور رومی کو قتل کر دیا اور پھر جیسا کہ اس نے قاعدہ بنایا ہوا تھا کہ پہلے ایک حصے پر حملہ آور ہوتا تھا اور پھر دوسرے حصہ پر۔چنانچہ جب وہ پھر حضرت خالد بن ولید کے پاس سے گذرتا ہوا دوسرے حصے کی طرف بڑھ رہا تھا تو انہوں نے کہا کہ اے سوار ٹھہرو! میرا حکم ہے۔اس نے بڑی مشکل سے گھوڑے کی لگا میں کھینچیں اور گھوڑا کھڑا کیا اور واپس آیا۔حضرت خالد بن ولید نے کہا کہ اس وقت تم نے جو کارنامہ انجام دیا ہے اور ایثار اور فدائیت کا جو شاندار نمونہ دکھایا ہے ہمارے دل تمہاری قدر سے معمور ہو چکے ہیں ہم نے دیکھ لیا ہے کہ تم بڑے بہادر ہو، تم بڑے نڈر ہو، تم بڑے فدائی ہو اور تم اسلام کے لئے اپنی جان قربان کرنے کیلئے تیار ہو۔ابھی فوج تیار نہیں ہوئی تھی کہ تم نے جا کر حملہ کر دیا لیکن اب کافی ہو چکا ہے تم ہمارے ساتھ آملو۔اور اپنا چہرہ تو ذرا دکھاؤ۔تم ہو کون؟ حضرت خالد بن ولید اس کا جواب سن کر حیران رہ گئے۔اس سوار نے یہ جواب دیا کہ میں اپنا منہ نگا نہیں کر سکتی کیونکہ میں ایک مسلمان عورت ہوں۔میرے اوپر حیا کی نقاب بھی پڑی ہوئی ہے۔میں نے اپنا سر اسی لئے باندھا ہوا ہے اور میں ضرار کی بہن ہوں دنیا نے اس دل کی قدر کو نہیں پہچانا اور یہ سمجھا کہ اپنے بھائی کی محبت میں اس نے اس طرح مردانہ وار حملہ کیا۔لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔اس کے دل میں تو یہ جذبہ پیدا ہوا کہ میرا بھائی تو قربان تھا اسلام پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر۔اور اس کا ایک خوف طاری تھا رومیوں پر۔وہ اس کو پکڑ کر لے گئے ہیں اور انہیں یہ ٹرافی یعنی یہ انعام کے طور پر مل گیا ہے یہ اُن کے پاس نہیں رہنا چاہیے۔یہ ہمیں واپس لینا چاہیے۔پس یہ تھی مسلمان عورت جو اللہ تعالیٰ کا بے پناہ پیار لیتی تھی۔اسی تسلسل میں حضور نے جنگ دمشق میں ایک اور مسلم خاتون کی جانثاری اور فدا کاری کا واقعہ اپنی زبان مبارک سے درج ذیل الفاظ میں بیان فرمایا :۔اسی جنگ میں ایک نوجوان کی شادی ہوئی۔ابھی اس نو بیاہتا جوڑے کی خوشیوں کے دو تین دن گزرے تھے کہ خاوند جنگ میں شہید ہو گیا۔بیوی نے اپنے خاوند کا سوگ منانے کے لئے اپنی آہوں کو بلند نہیں کیا بلکہ اپنے خاوند کی جگہ لینے